نیویارک (ہمگام نیوز) ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (HRF) نے قابض پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بانی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو رہا کیا جائے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
فاؤنڈیشن نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت بلوچستان کی ہُدہ جیل میں قید ہیں، جہاں سے انہوں نے ایک خط میں اپنی زندگی کے تجربات، والد کی یادوں، جیل میں گزرنے والے حالات اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ تحریر میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں ایک پُرامن دھرنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ دھرنا گزشتہ روز ایک مظاہرے میں تین افراد کی ہلاکت کے خلاف دیا گیا تھا۔ HRF کے مطابق انہیں بعد ازاں پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور وہ دہشت گردی کے الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتی ہے۔
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمے کی سماعت کے دوران منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے متعدد تحفظات سامنے آئے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ سماعتیں جیل کے اندر منعقد ہوئیں، تاہم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو صرف ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اجازت دی گئی۔
HRF کے مطابق انہیں کارروائی میں مؤثر طور پر حصہ لینے کے حق سے محروم رکھا گیا، جبکہ صحافیوں اور دیگر بیرونی مبصرین کو بھی سماعت تک رسائی نہیں دی گئی۔
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جیل میں صحت بگڑنے سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی اور مناسب طبی نگہداشت کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے کہا کہ 30 اکتوبر کو منائے جانے والے سیاسی قیدیوں کے عالمی دن سے قبل وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت ان تمام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے جو اپنے سیاسی نظریات اور عقائد کی وجہ سے قید ہیں۔
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے ایک بار پھر پاکستانی حکام سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بلوچ عوام اور دنیا بھر کے سیاسی قیدیوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے آ
واز بلند کرے۔


