تل ابیب/واشنگٹن (ہمگام نیوز) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کریں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ایران کے خلاف دوبارہ بڑے فوجی آپریشن کے امکانات پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج ممکنہ کارروائی کے لیے منصوبہ بندی اور تیاریوں میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایران سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کے بعض عہدیدار ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے حامی ہیں جبکہ دوسرے حلقے تہران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 15 کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ شروع ہونے کی صورت میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ بھی محاذ کھول سکتی ہے۔

اس تناظر میں اسرائیلی فوج شمالی سرحد پر بیک وقت ڈرونز اور میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر سمیت خطے کے بعض ممالک دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔