ڈیرہ بگٹی (ہمگام نیوز) ڈیرہ بگٹی میں جاری فوجی جارحیت کا چوتھا دن ہے، گزشتہ روز کور کمانڈر آصف غفور کے دورہ سوئی اور احکامات کے بعد آپریشن میں مزید شدت لائی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق سبّی سے آج صبع بیس گاڈیوں پر مشتمل ایک قافلہ اوُچ کے علاقے شیرانی پہنچ گئے جہاں پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر آپریشن شروع کردیا گیا جبکہ مزید دو ہیلی کاپٹر کشمور سے سوئی پہنچ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آپریشن کو وسعت دیتے ہوئے آج پاکستانی فوج نے سیاہ آف اور سنگسیلا کے علاقوں میں ہیلی کاپٹروں سے گشت شروع کردیا ہے۔
شیرانی کے علاقے سے اطلاع ملی ہیں کہ پاکستانی فوج نے دو افراد کو حراست میں لیا ہے جن کے نام علی بخش اور اس کا بیٹا شاہ میر ہیں جبکہ اسی علاقے میں چار گھروں کو بھی فورسز نے نظر آتس کردیا ہے۔
جبکہ سوئی کے نواحی علاقے میں بگٹی قبیلے کے ذیلی شاخ شالوانی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی بیس بکریاں بھی فورسز کے اہلکار اپنے گاڈیوں میں ڈال کر لے گئے ہیں۔
ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے آسریلی میں مقیم بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ باخلانی کے بیس خاندانوں کو پاکستانی فوج نے ان کے گھروں سے بے دخل کردیا ۔
ان کو دھمکا کر ان کے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کریا۔ مزکورہ خاندانوں کو اپنے کھڑے فصل بھی چھوڑنے پرے جن پر ان تمام خاندانوں کے زندگی کا گزر بسر منحصر تھا۔
مقامی لوگوں کے مطابق غلام نبی شمبانی نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے دشت گوران کے رہائشی جوژ ٹکر سے تعلق رکھنے والے محمد حسین بگٹی، محمد دین بگٹی، شاہ دین بگٹی ، دینو بگٹی اور رحیم بگٹی کو ترکی کے علاقے میں لے جاکر ہر شخص کو تین گھنٹے میں پانی میں دوڑا کر پھر ان کو کہا کہ وہ مجرم ہیں اور ان تمام افراد کو علاقہ بدر کردیا۔














