واشنگٹن(ھمگام نیوز ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل حامی حلقوں کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیلی حکومت یا وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر کی جانے والی ہر تنقید کو یہود دشمنی قرار دیا جائے۔

ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اور یہود دشمنی دو الگ چیزیں ہیں، جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے اسرائیل نواز حلقے یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی حکومت پر ہونے والی ہر تنقید کو یہود دشمنی سے جوڑ دیتے ہیں۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حکومت یا اس کے رہنماؤں کی پالیسیوں پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ بعض اسرائیل حامی گروہ امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کے قومی مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

انٹرویو کے دوران جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور معروف سیاسی کارکن چارلی کرک کے بارے میں سوال کیا گیا تو جے ڈی وینس نے کہا کہ چارلی کرک یہود دشمنی کے سخت مخالف تھے، تاہم وہ امریکی سیاست میں اسرائیلی اثرورسوخ کے بڑھتے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے تھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان ان کے ماضی کے مؤقف کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں وہ اسرائیل نواز لابنگ گروپس پر براہ راست تنقید سے گریز کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی، غزہ میں جاری جنگ اور لبنان کی صورتحال کے تناظر میں امریکی سیاست کے بعض حلقوں میں اسرائیل کے حوالے سے نئی بحث جنم لے رہی ہے، جس کا عکس جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی نائب صدر کے یہ ریمارکس نہ صرف واشنگٹن کی داخلی سیاسی بحث کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے حوالے سے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔