تحریر ۔ ڈاکٹر عزیز مری
ھمگام آرٹیکل
26 اکتوبر محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک بوڑھی ماں کے سینے میں دفن وہ درد ہے جو گزشتہ سترہ برس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ سترہ برس پہلے اسی دن اس کے جگر کا ٹکڑا، اس کا بیٹا، سفر خان مری، اچانک اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ گھر سے روزی کمانے نکلا تھا، مگر پھر کبھی گھر واپس نہ آیا۔ اس کی ماں آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہے، شاید کہیں سے اس کے قدموں کی آہٹ سنائی دے، شاید دروازے پر دستک ہو اور کوئی آواز آئے، اماں، میں آگیا ہوں۔
لیکن افسوس، سترہ برس بیت گئے، دروازہ آج بھی خاموش ہے، دہلیز آج بھی منتظر ہے اور ماں کی آنکھیں آج بھی اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں۔
سفر خان مری کوئی جاگیردار، سرمایہ دار یا طاقت ور شخصیت نہیں تھا۔ وہ ایک محنت کش انسان تھا، سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے ٹھیکے لیا کرتا تھا اور خود بھی محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتا تھا۔ اس کے ساتھ کئی قریبی ساتھی کام کرتے تھے، جن کے گھروں کے چولہے بھی اسی روزگار سے جلتے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے عمارتیں تعمیر کرتا تھا، لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرتا تھا اور اپنی محنت کی کمائی سے اپنے گھر والوں کی امیدوں کو زندہ رکھتا تھا۔
مگر 26 اکتوبر 2009ء کو اس کی اپنی زندگی کا راستہ اچانک بند ہوگیا۔
سفر خان مری عارف برما ہوٹل کے قریب سڑک کی تعمیر کے کام میں مصروف تھا کہ اہلِ خانہ کے بیان کے مطابق، بعض نامعلوم افراد اسے اٹھا کر لے گئے۔ موقع پر موجود مزدوروں اور آس پاس کے لوگوں نے مبینہ طور پر گاڑی کا نمبر بھی نوٹ کیا۔ اہلِ خانہ نے سریاب تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ انہیں امید تھی کہ قانون حرکت میں آئے گا، پولیس تحقیقات کرے گی اور چند ہی دنوں میں ان کا پیارا گھر واپس آجائے گا۔
لیکن وہ چند دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے۔
سفر خان نہ لوٹا، مگر اس کی تلاش میں ایک پورا خاندان زندگی کی عدالت میں سزا کاٹتا رہا۔
اس کے اہلِ خانہ نے پولیس تھانوں کے دروازے کھٹکھٹائے، عدالتوں کے چکر لگائے، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک رجوع کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں سے فریاد کی، لاپتہ افراد کے کمیشن تک اپنی آواز پہنچائی، مگر ہر کوشش کے بعد ان کے ہاتھ صرف انتظار، مایوسی اور بے بسی آئی۔
ان سترہ برسوں میں کتنی عیدیں آئیں اور گزر گئیں۔ کتنے موسم بدلے، کتنی سرد راتیں صبح میں ڈھلیں، کتنی بار گھر کے دروازے پر آہٹ ہوئی اور کتنی بار ماں کا دل دھڑکا ہوگا کہ شاید اس کا بیٹا لوٹ آیا ہے۔ لیکن ہر بار امید نے مایوسی کا کفن اوڑھ لیا۔
ایک ماں کے لیے اس سے بڑی اذیت کیا ہوگی کہ اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کا بیٹا زندہ ہے یا مر چکا؟
اگر زندہ ہے تو کس حال میں ہے؟
کیا اسے کھانا ملتا ہے؟
کیا وہ بیمار تو نہیں؟
کیا اسے سردی لگتی ہے؟
کیا وہ بھی اپنی ماں کو یاد کرکے راتوں کو روتا ہوگا؟
کیا وہ بھی کسی اندھیرے کمرے میں بیٹھا اس امید پر دن گنتا ہوگا کہ ایک روز اسے اپنی ماں کے پاس جانے دیا جائے گا؟
یہ سوال کسی ایک خاندان کے نہیں، انسانیت کے سوال ہیں۔ ان کا جواب دینا ریاست، قانون اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اس دردناک داستان کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق، 2012ء میں ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران ایف سی کے کرنل شہزاد نامی شخص نے کہا تھا کہ سفر خان ان کے پاس ہے اور اسے جلد رہا کردیا جائے گا۔ اگر یہ بیان درست ہے تو یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک ٹوٹتے ہوئے خاندان کے لیے زندگی کی سب سے بڑی امید تھی۔ ایک ماں کے لیے یہ یقین دہانی کسی معجزے سے کم نہ تھی کہ اس کا بیٹا موجود ہے اور جلد گھر واپس آجائے گا۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر سفر خان واقعی ان کی تحویل میں تھا تو پھر اسے رہا کیوں نہیں کیا گیا؟
اس کے اہلِ خانہ کو اس کی موجودہ حالت کے بارے میں آگاہ کیوں نہیں کیا گیا؟
اگر اس کے خلاف کوئی الزام تھا تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟
یہ سوال آج بھی جواب مانگ رہے ہیں۔
دوسری طرف، سفر خان کی بوڑھی ماں کی زندگی انتظار کی ایک طویل اور کرب ناک تصویر بن چکی ہے۔ وہ بار بار انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے فریاد کرتی رہی، متعلقہ اداروں کے دروازوں پر دستک دیتی رہی اور اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی رہی۔ شاید ہر نئی پیشی پر اس کے دل میں ایک نئی امید جاگتی ہو، شاید ہر نئی یقین دہانی پر وہ اپنے بیٹے کی واپسی کے خواب دیکھتی ہو۔ لیکن وقت گزرتا گیا اور اس کی گود خالی رہی۔
ہم میں سے بہت سے لوگ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو دیکھتے ہیں، ان کی فریاد سنتے ہیں اور پھر اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ مگر کوئی اس ماں کے دل سے پوچھے جس کے لیے ہر دن ایک صدی اور ہر رات ایک قیامت بن چکی ہے۔ اس کے لیے وقت آگے نہیں بڑھتا، وہ آج بھی 26 اکتوبر 2009ء کے اسی مقام پر کھڑی ہے، جہاں اس کا بیٹا اس سے جدا ہوا تھا۔
دنیا کے لیے سترہ برس گزر گئے، مگر ایک ماں کے لیے اس کے بیٹے کی جدائی کا پہلا دن آج بھی ختم نہیں ہوا۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی شخص سے قانون کے مطابق پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ کسی الزام کی تحقیقات نہ ہوں۔ ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ اگر سفر خان مری کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اس پر الزام واضح کیا جائے، اسے اپنے دفاع کا حق دیا جائے اور اس کے اہلِ خانہ کو اس کے بارے میں بتایا جائے۔
کسی انسان کو برسوں تک بے خبری میں رکھنا، کسی خاندان کو زندہ اور مردہ کی درمیانی کیفیت میں چھوڑ دینا اور ایک بوڑھی ماں کو اپنے بیٹے کی خبر کے لیے دربدر بھٹکنے پر مجبور کرنا آخر کس انصاف کا تقاضا ہے؟
جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھانا کسی ادارے سے دشمنی نہیں، بلکہ انسانی جان، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔ ریاست کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ اس کے شہری خوف سے خاموش ہوجائیں، بلکہ اس میں ہے کہ شہری انصاف کے لیے اس کے دروازے پر دستک دینے کو اپنا حق سمجھیں۔
آج سترہ برس بعد ہم سفر خان مری کی ماں کی طرف سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ سفر خان کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات اس کے اہلِ خانہ کو فراہم کی جائیں۔ اگر وہ کسی ادارے کی تحویل میں ہے تو اس کی قانونی حیثیت واضح کی جائے، اور اگر اس کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر اس کی تحویل کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں تو اس کی گمشدگی کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کی جائیں۔
یہ کسی پر احسان کرنے کی درخواست نہیں، یہ ایک خاندان کا بنیادی حق اور ایک ماں کی جائز فریاد ہے۔
آج ہم اس بوڑھی ماں کی آواز بن کر پوچھتے ہیں،
اے اختیار رکھنے والو، تمہارے پاس بہت سے سوالوں کے جواب ہوں گے، مگر اس ماں کو صرف ایک جواب چاہیے، میرا سفر خان کہاں ہے؟
وہ اپنے بیٹے کے لیے اقتدار نہیں مانگتی، دولت نہیں مانگتی، کسی عہدے کی خواہش نہیں رکھتی۔ وہ صرف اپنے لختِ جگر کی خبر چاہتی ہے۔ اگر وہ زندہ ہے تو اسے اس کی ماں کے پاس واپس آنے دیا جائے۔ اگر اس کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اور اگر خدانخواستہ وہ اس دنیا میں نہیں رہا تو اس کی ماں کو حقیقت جاننے کا حق دیا جائے، تاکہ وہ اپنے بیٹے کے لیے رو سکے، اس کی آخری آرام گاہ کا سراغ پا سکے اور اپنے دل کو کسی انجام تک پہنچا سکے۔
ایک ماں کو اس کے بیٹے کی زندگی سے محروم کرنا ایک المیہ ہے، لیکن اسے سترہ برس تک اس کی زندگی اور موت کے سوال میں معلق رکھنا ایسا عذاب ہے جسے لفظوں میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔
آج 26 اکتوبر 2026ء ہے۔ سفر خان مری کی گمشدگی کو سترہ برس مکمل ہوگئے ہیں۔ سترہ برس کی خاموشی، سترہ برس کی بے خبری اور سترہ برس کی بے بسی کے بعد بھی اس کی ماں کی امید شاید پوری طرح نہیں مری۔ مائیں عجیب ہوتی ہیں؛ دنیا مایوس ہوجائے تب بھی وہ اپنے بچوں کے لوٹ آنے کی دعا کرتی رہتی ہیں۔
شاید آج بھی وہ دروازے کی طرف دیکھتی ہو۔ شاید آج بھی کسی گاڑی کی آواز پر اس کا دل دھڑک اٹھتا ہو۔ شاید آج بھی وہ رات کو سونے سے پہلے اپنے رب سے کہتی ہو۔
یا اللہ، میرا بیٹا جہاں بھی ہے، اسے خیریت سے میرے پاس واپس بھیج دے۔ میں بوڑھی ہوگئی ہوں، میری آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں، میرے قدم لڑکھڑانے لگے ہیں، مگر میرے دل میں اپنے بیٹے کی واپسی کی امید ابھی زندہ ہے۔ مجھے مرنے سے پہلے ایک بار اپنے سفر کا چہرہ دکھا دے۔
یہ ایک بوڑھی ماں کی فریاد ہے، جس کا جواب محض خاموشی نہیں ہونا چاہیے۔
سفر خان مری کہاں ہے؟
سترہ برس بعد بھی یہ سوال زندہ ہے۔ اور جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، اس کی ماں کا انتظار، اس خاندان کا درد اور انصاف کا تقاضا بھی زندہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ اس ماں کے صبر کو اجر عطا فرمائے، اس کے دل کو سکون دے اور سفر خان مری سمیت تمام لاپتہ افراد کے خاندانوں کو حقیقت، انصاف اور اپنے پیاروں کی خیریت کی خبر نصیب فرمائے۔ آمین۔















