تہران(ھمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق آج 14 جون 2026ء کی صبح ایران کے بینکنگ نیٹ ورک پر ایک بڑے سائبر حملے کے بعد ملک کے متعدد صوبوں میں بینکاری خدمات شدید متاثر ہو گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں چار بڑے بینکوں — نیشنل بینک، بینک صادرات، بینک تجارت اور بینک توسعه صادرات — کی خدمات جزوی یا مکمل طور پر معطل ہو گئیں۔ اس خرابی کے باعث ملک بھر میں اے ٹی ایم مشینیں، کارڈ ریڈرز، موبائل بینکنگ اور انٹرنیٹ بینکنگ سروسز بند یا غیر فعال ہو گئیں، جس سے مالی لین دین بری طرح متاثر ہوا۔
یہ تکنیکی خرابی صرف بینکنگ سسٹم تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات فیول اسٹیشنز اور ایسے کاروباری مراکز تک بھی پہنچے جو الیکٹرانک ادائیگیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ خرید و فروخت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سروسز کی بحالی کا عمل ابھی غیر یقینی ہے اور بڑے پیمانے پر نظامی رکاوٹیں برقرار ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا سائبر حملہ ایران کے مالیاتی انفراسٹرکچر کی کمزوری اور مرکزی نظام پر حد سے زیادہ انحصار کو ظاہر کرتا ہے، جس کے باعث وسیع پیمانے پر معاشی اور عوامی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔















