واشنگٹن (ھمگام نیوز) جانسن اینڈ جانسن نے ٹالک سے متعلق مقدمات نمٹانے کے لیے 5.5 ارب ڈالر کی مفاہمتی رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ معاہدہ 69 ہزار سے زائد مقدمات کو ہندسات رکھتا ہے جو بیبی پاؤڈر کے استعمال سے بیضہ دانی کے کینسر کے الزامات پر دائر کیے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹالک اور کینسر کے درمیان تعلق کا کوئی سائنسی دلیل موجود نہیں ہے، لیکن اس نے 2020 میں امریکا میں، 2023 میں عالمی سطح پر ٹالک سے بننے والے پاؤڈر کی فروخت معطل کر دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے اپنے ٹالک پر مبنی بیبی پاؤڈر کے خلاف دائر ہزاروں مقدمات نمٹانے کے لیے 5.5 ارب ڈالر کی مفاہمتی رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ معاہدہ امریکا کی وفاقی اور ریاستی عدالتوں میں زیرِ سماعت تقریباً 69 ہزار مقدمات کا احاطہ کرتا ہے، جو ٹالک پر مبنی بیبی پاؤڈر کے استعمال سے بیضہ دانی کے کینسر (اوورین کینسر) کے الزامات سے متعلق ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ امریکا میں ٹیلک سے متعلق زیر التوا مقدمات کا تقریباً 99.75 فی صد بنتا ہے۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ تصفیہ اس وقت حتمی ہوگا جب وفاقی اور ریاستی عدالتوں میں موجود 95 فی صد مدعی اس معاہدے سے اتفاق کریں گے۔

واضح رہے کہ ٹالک ایک نرم معدنی مادہ ہے جو ماضی میں کاسمیٹکس اور بیبی پاؤڈر سمیت مختلف مصنوعات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔ تاہم، کینسر سے ممکنہ تعلق کے خدشات کے باعث اس کا استعمال کم ہو گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے 2024 میں ٹالک کو ’ممکنہ طور پر انسانوں کے لیے سرطان پیدا کرنے والا‘ قرار دیا تھا۔

جانسن اینڈ جانسن کا مؤقف ہے کہ ٹالک اور کینسر کے درمیان تعلق کے کوئی حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں۔ تاہم، کمپنی نے 2020 میں امریکا اور 2023 میں دنیا بھر میں ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر کی فروخت بند کر دی تھی۔

یہ تنازع 2016 میں اس وقت نمایاں ہوا جب ایک امریکی جیوری نے اوورین کینسر سے انتقال کر جانے والی خاتون کے اہلِ خانہ کے حق میں 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہرجانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بعد میں کالعدم قرار دے دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد کمپنی کے خلاف مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا