کراچی( ہمگام نیوز)
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشنوں کے دوران عام لوگوں کی گرفتاری کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی فورسز طاقت کے نشے میں چور عام لوگوں کو بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔بلوچستان بھر سے نہتے لوگوں کی گرفتاری اور ان پرتشدد روز کا معمول بن چکے ہیں۔ بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ گراؤنڈ فراہم کرنے کے لئے فورسز بلوچ نسل کشی کررہے ہیں تاکہ مقامی لوگوں کا خاتمہ کرکے بیرونی سرمایہ کاری کو ممکن بنایا جا سکے۔ بی ایس او آزاد نے کہا کہ پاکستان کے حکمران جہاں سے پیسہ ملے وہاں کے پراکسی بن جاتے ہیں، بلوچستان کے ساحل اور قیمتی وسائل کو سستی قیمت پر چائنا کو بیچ کر اس جبری سرمایہ کاری کی راہ میں مذاحم بلوچ عوام کے خلاف ریاستی طاقت بے تحاشا استعمال کی جارہی ہے۔ ریاستی فورسز کی شدید ترین بربریت کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں کے سماجی و معاشی ذرائع متاثر ہورہے ہیں۔ اندرون بلوچستان لوگوں کی روزگار کے زریعے زمینداری اور گلہ بانی ہیں، لیکن ریاستی فورسز نے ان ذرائع کو بھی لوگوں سے چھین رکھا ہے، اسی طرح آئے روز کی آپریشنوں اور تعلیم سے وابستہ لوگوں کی گرفتاری سے پہلے سے مخدوش تعلیمی نظام مزید تباہی کا شکار ہوچکا ہے۔گریشہ، دشت، کولواہ، بالگتر، گچک سمیت کئی علاقوں میں لوگ اپنی زمینوں میں نہیں جا سکتے، اور نہ ہی مالدار اپنی بکریاں چرانے کے لئے پہاڑوں کا رخ کرسکتے ہیں۔ اسی ہفتے فورسز نے آپریشن کے دوران کیچ کے علاقوں سے درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا جن میں بکریاں چرانے والے چرواہے بھی شامل تھے جبکہ بالگتر میں کئی گھروں کو قیمتی سامان لوٹنے کے بعد فورسز نے جلا دئیے۔ عوام کے خلاف کاروائیاں کسی ایک علاقے میں محدود نہیں بلکہ بلوچستان بھر میں ریاستی جبر یکساں طور پر بلا تعطل جاری ہے،خضدار کے علاقے گریشہ میں آج فورسز نے آپریشن کرکے کئی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، متعدد لوگوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ بھی لے گئے۔ بی ایس او آزاد نے کہا کہ آزادی بلوچ عوام کا بنیادی حق ہے، اس بنیادی حق کو حاصل کرنے لئے ہزاروں بلوچ فورسز کے ہاتھوں قتل کیے جاچکے ہیں اور ہزاروں لاپتہ ہیں، اقوام متحدہ کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ بلوچ عوام کی مرضی کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ثالث کا کردار ادا کرے، تاکہ مزید انسانی جانوں کی ضیاع سے محفوظ رہا جا سکے۔


