دالبندین: (ہمگام نیوز) دالبندین کے رہائشی جبری طور پر لاپتہ غلام حضرت کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی بازیابی کیلئے حکومت، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ غلام حضرت کو یکم اکتوبر 2018 کو شام کے وقت دالبندین کے علاقے ڈنو کے میدان سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران انہوں نے ہر ممکن قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا، تاہم کسی بھی متعلقہ ادارے کی جانب سے سنجیدہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں دالبندین کینٹ اور کوئٹہ بھی طلب کیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنر خاران کے ساتھ دو مرتبہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ قبائلی عمائدین اور علاقائی معتبرین کی جانب سے یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر غلام حضرت پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق منظر عام پر لایا جائے، جبکہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے تیار ہیں۔

پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ غلام حضرت کی بازیابی کیلئے عید کے پہلے دن دالبندین میں ایک پُرامن احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ لواحقین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں آئینی حق کے مطابق پُرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں شرکت کرکے غلام حضرت   کی بازیابی کیلئے آواز بلند کریں