Oplus_16908288

زاہدان( ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر زاہدان کی مرکزی جیل میں اتوار، 21 جون 2026 کو ایک اور بلوچ قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ اس قیدی کی شناخت سامنے آنے کے بعد آج جیل میں پھانسی دیے جانے والے بلوچ قیدیوں کی تعداد کم از کم دو ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پھانسی پانے والے قیدی کی شناخت عیسیٰ رحمانی کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ 36 سال کے تھے، موسیٰ کے بیٹے، شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے۔ ان کا تعلق ضلع سرباز سے تھا اور وہ وہیں کے رہائشی تھے۔

ذرائع کے مطابق عیسیٰ رحمانی کو سال 2024 میں منشیات سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں گزشتہ روز عمومی بیرک سے منتقل کر کے تنہائی کی کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا، جہاں سے آج علی الصبح انہیں پھانسی دے دی گئی۔

اس سے قبل ذرائع نے ایک اور بلوچ قیدی نعمت اللہ براہوئی کی پھانسی کی خبر دی تھی۔ نعمت اللہ براہوئی 31 سال کے تھے، امیر محمد کے بیٹے، شادی شدہ اور چار بچوں کے والد تھے۔ ان کا تعلق زابل سے تھا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق نعمت اللہ براہوئی کو سال 2022 میں زاہدان میں منشیات سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں انقلابی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ انہیں ہفتہ، 20 جون 2026 کو پھانسی کے لیے تنہائی کی کوٹھڑی میں منتقل کیا گیا تھا اور آج علی الصبح ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

واضح رہے کہ زندگی کا حق، جو بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 6 میں درج ہے، بنیادی انسانی حقوق میں شمار ہوتا ہے۔ اس حق سے محرومی صرف سخت قانونی تقاضوں اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے تحت ہی ممکن ہونی چاہیے۔

بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اہل خانہ کو اطلاع دینا اور آخری ملاقات کا موقع فراہم کرنا بنیادی انسانی معیارات کا حصہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بالخصوص منشیات سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کے استعمال اور ملزمان و ان کے اہل خانہ کے حقوق کے تحفظ سے متعلق مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔