تحریر ۔ رزاک بلوچ

کم و بیش گزشتہ دو دہائیوں پر محیط تحریکی سفر میں ہم نے جو نشیب و فراز دیکھے، سہے، برتے اور سمجھنے کی کوشش کی، ان کا حاصل بڑی حد تک یہی ہے کہ ہمارے جذبات اجتماعی شعور میں پوری طرح ڈھل نہ سکے۔ قربانیوں کا تسلسل، لہو کی ارزانی اور جانوں کی بے دریغ نذر نے ایک ایسا بیانیہ ضرور تشکیل دیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ بیانیہ اپنی فکری سمت اور تحریکی مرکزیت سے دور ہو کر ایک بے لگام کیفیت اختیار کرتا گیا۔

تنقید اس وقت تک تنقید نہیں بنتی جب تک اس کی بنیاد حقیقت کی کلیت پر استوار نہ ہو۔ حقیقت ہمیشہ ایک وحدت ہوتی ہے، مگر تعصب اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ جو شخص اسی فیصد حقیقت کو نظر انداز کرکے محض بیس فیصد کو دلیل بنا لے، وہ حقیقت کا طالب نہیں بلکہ اپنے مقدمے کا وکیل ہوتا ہے۔ وہ انصاف نہیں کرتا بلکہ فیصلے کو پہلے لکھتا ہے اور پھر اس کے حق میں شواہد تلاش کرتا پھرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تنقید، تحقیق سے نکل کر پراپیگنڈا، اور اختلاف، دیانت سے نکل کر سیاسی عصبیت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

الزام سے جرم تک کا سفر محض الفاظ کا نہیں بلکہ دلیل، شہادت، قرائن، تناظر اور انصاف کا سفر ہے۔ یہ راستہ ہمیشہ طویل، کٹھن اور صبر آزما ہوتا ہے۔ لیکن سیاسی خواہشات کا اسیر ذہن اس تمام مرحلے کو ایک چھلانگ میں عبور کرنا چاہتا ہے۔ وہ پہلے مجرم متعین کرتا ہے، پھر حقائق کو اپنی خواہش کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ اس کے لیے سچ وہ نہیں ہوتا جو موجود ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس کے بیانیے کو تقویت دے۔ یوں حقیقت اس کے ہاتھوں دریافت نہیں ہوتی بلکہ مسخ ہوتی ہے۔

سیاسی بددیانتی کی بدترین شکل یہ نہیں کہ جھوٹ بولا جائے، بلکہ یہ ہے کہ سچ کا ایک چھوٹا سا حصہ اس انداز سے پیش کیا جائے کہ پوری حقیقت نگاہوں سے اوجھل ہو جائے۔ آدھا سچ اکثر مکمل جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ جھوٹ کو پہچاننا نسبتاً آسان ہے مگر ادھورا سچ اپنی ظاہری صداقت کی وجہ سے ذہنوں کو دھوکا دیتا ہے۔ یہی وہ فکری فریب ہے جسے تاریخ میں اکثر سیاسی تطہیر، کردار کشی اور تنظیمی سبوتاژ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ہماری اجتماعی نفسیات کا المیہ یہ ہے کہ ہم شعور سے زیادہ جذبات کے زیرِ اثر فیصلے کرتے ہیں۔ جذبات فوری اطمینان دیتے ہیں، جبکہ شعور فوری نہیں بلکہ درست نتائج کا تقاضا کرتا ہے۔ جذبات دشمن تلاش کرتے ہیں، شعور مسئلہ تلاش کرتا ہے۔ جذبات سزا چاہتے ہیں، شعور اصلاح کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی سیاست ہمیشہ افراد کو قربان کرتی ہے جبکہ شعوری سیاست اداروں کو تعمیر کرتی ہے۔

بلوچ تحریک آجوئی کے اندر جذبات کو شعور میں ڈھالنے کے راستے میں ایک طرف ریاستی جبر اپنی پوری استبدادی قوت کے ساتھ حائل رہا، لیکن دوسری جانب ہماری اپنی نفسیاتی کمزوریاں، سیاسی عدم بلوغت، انفرادیت پسندی، نرگسیت کی حد تک خود ستائی اور ذہنی فسطائیت بھی کسی طور کم ذمہ دار نہیں رہیں۔ یہ داخلی عوامل بارہا اس اجتماعی شعور کی تشکیل میں رکاوٹ بنتے رہے جو ہر قومی آزادی کی تحریک کی حقیقی بنیاد ہوتا ہے۔

فرانز فینن نے استعمار کے خلاف جدوجہد کا تجزیہ کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ آزادی صرف اسلحہ اٹھانے یا خون بہانے سے حاصل نہیں ہوتی؛ اگر قومی شعور مسلسل سیاسی شعور میں ارتقا نہ کرے تو نوآبادیاتی ڈھانچے نئے چہروں کے ساتھ دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ قربانی، اگر شعور سے منسلک نہ ہو، تو محض ایک جذباتی یادگار بن کر رہ جاتی ہے، وہ کبھی تاریخ ساز قوت نہیں بنتی۔

نتیجتاً شعور اکثر جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہوتا رہا۔ تحریکی ضابطے، جوابدہی، تنظیمی اقدار، اجتماعی نظم اور قومی مفاد کے تقاضے مسلسل نظرانداز ہوتے گئے۔ بہت سے مقامات پر یہ عناصر محض رسمی حیثیت اختیار کر گئے، جبکہ انفرادی خواہشات اور جذباتی ردِعمل فیصلہ سازی پر غالب آتے چلے گئے۔

انتونیو گرامشی نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا تھا کہ “ہر انسان جذبات رکھتا ہے، مگر سیاست صرف جذبات سے نہیں چلتی؛ اس کے لیے فکری تنظیم اور اجتماعی ارادہ درکار ہوتا ہے۔” گرامشی کے نزدیک تحریکیں اس وقت بالغ ہوتی ہیں جب وہ منتشر احساسات کو منظم اجتماعی شعور میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیں۔ جہاں یہ عمل رک جائے، وہاں جذبات سیاست پر غالب آجاتے ہیں اور سیاست حکمت سے محروم ہو جاتی ہے۔

جو سیاسی کارکن لہو کے ہر بہاؤ کو بغیر تنقیدی شعور کے محض جوش و ولولے کی علامت سمجھ کر اس پر بگل بجاتا ہے، وہ جذبات سے شعور کی دہلیز تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ شدید جذبات اور خوش فہمیوں کے زیرِ اثر اپنی تنقیدی صلاحیت اور تعقل پسندی کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ جب عقل جذبات کی تابع بن جائے تو تاریخ کے تقاضے، سیاسی حکمتِ عملی اور جدوجہد کی سمت سب دھندلا جاتے ہیں۔

ماؤ زے تنگ نے ایک اہم اصول بیان کیا تھا کہ “درست سیاسی سمت کے بغیر ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ ہتھیاروں کو درست سیاسی شعور کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔” یہی اصول ہر آزادی کی تحریک پر لاگو ہوتا ہے۔ لہو اگر تنظیمی حکمت اور اجتماعی شعور کے تابع نہ رہے تو وہ دشمن کو کم اور اپنی صفوں کو زیادہ کمزور کرتا ہے۔

ایسی ذہنیت ہر مسئلے کا فوری اور سطحی حل تلاش کرتی ہے۔ وہ نہ لہو کے بہاؤ کی سمت پر غور کرتی ہے، نہ اس کی تاریخی ضرورت پر، نہ اس کی سیاسی افادیت اور نہ ہی اس کی قیمت پر۔ وہ ہر نئی دلیل کے جواب میں یہی دہراتی ہے کہ اب سوچنے، سمجھنے اور سمجھانے کا وقت گزر چکا ہے؛ اب صرف عمل درکار ہے۔ حالانکہ ایسا عمل جو شعور، حکمت اور اجتماعی نظم سے محروم ہو، اکثر اپنی توانائی خود ہی ضائع کر دیتا ہے۔

امیلکار کابرال نے آزادی کی تحریکوں کے کارکنوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: “لوگوں سے جھوٹ مت بولو، آسان فتوحات کے خواب مت دکھاؤ، اور اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھو۔” یہی خود احتسابی اجتماعی شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو تحریک اپنی غلطیوں پر تنقید کا حوصلہ کھو دیتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے نظریاتی جوہر سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔

تحریکیں صرف قربانیوں سے نہیں بلکہ قربانیوں کی درست سیاسی تعبیر، منظم ادارہ سازی، اجتماعی فیصلہ سازی اور سخت تنظیمی نظم سے آگے بڑھتی ہیں۔ جذبات اگر شعور کی رہنمائی میں نہ ہوں تو وہ قوت بننے کے بجائے انتشار کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔

تحریکی تقاضوں، تنظیمی ضابطوں اور اجتماعی فیصلوں کی مرکزیت سے انحراف کرنے والے عناصر اکثر ہر معاملے کو اپنی ذاتی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اجتماعی مفاد سے زیادہ اپنی رائے، اپنی تشریح اور اپنا تاثر اہم ہوتا ہے۔ یہی انفرادیت پسندی رفتہ رفتہ تحریک کے اندر فکری انتشار، تنظیمی کمزوری اور اجتماعی اعتماد کے زوال کا سبب بنتی ہے۔

لینن نے ایک موقع پر کہا تھا کہ “انقلاب میں نظم و ضبط کوئی اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے۔” یہ بات ہر اس تحریک پر صادق آتی ہے جو ریاستی جبر کے مقابل کھڑی ہو۔ تنظیمی ڈسپلن اور اجتماعی فیصلوں کی مرکزیت کے بغیر بہادری بھی منتشر ہو جاتی ہے اور قربانیاں بھی اپنی مطلوبہ سیاسی قوت پیدا نہیں کر پاتیں۔

یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اکائی سے ہی کُل کی تعمیر ہوتی ہے۔ اگر بنیادی اکائی سیاسی شعور، تنظیمی نظم، تنقیدی فکر اور اجتماعی ذمہ داری سے محروم ہو تو پوری تحریک اس کمزوری کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوتی ہے۔ قومی آزادی کی تحریکیں محض لہو کی بے دریغ و بے سمت بہاو سے نہیں بلکہ فکری پختگی، تنظیمی بلوغت، جوابدہی، ڈسپلن اور اجتماعی شعور سے اپنی منزل کی طرف بڑھتی ہیں۔

آج بھی بلوچ قومی تحریک کے سامنے سب سے بڑا سوال صرف مزاحمت کا نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر کا ہے۔ جب تک جذبات شعور میں، قربانی سیاسی حکمت میں، اور انفرادی خواہشات اجتماعی ذمہ داری میں تبدیل نہیں ہوتیں، تب تک جدوجہد اپنی مکمل تاریخی قوت کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی۔

لہو تحریکوں کو زندگی ضرور دیتا ہے، مگر منزل تک پہنچانے کا کام ہمیشہ شعور، تنظیم، اجتماعی بصیرت اور تاریخی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اگر جذبات کو شعور کا تابع نہ بنایا جائے تو وہ لمحاتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر تاریخ کا دھارا نہیں موڑ سکتے۔ اور جو تحریک اجتماعی شعور پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہ اکثر اپنے دشمن سے پہلے اپنی داخلی کمزوریوں کے ہاتھوں شکست کھا جاتی ہے۔