مستونگ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر بھتہ دینے سے انکار کرنے والے نہ صرف بس ڈرائیور بلکہ خواتین بچوں کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
مقامی ذرائع کے مطابق پہلے ڈرائیور پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، انکار پر تلخ کلامی ہوئی اور بعد ازاں حملہ آور فائرنگ کرکے فرار ہوگئے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بلوچستان کے عام شہری کی مشکل زندگی کی ایک اور تصویر ہے۔ مقامی ڈرائیور اور کاروباری افراد نہ صرف روزگار کی جدوجہد کرتے ہیں بلکہ سرکاری سرپرستی میں پلنے والے مسلح گروہوں کی دھمکیوں، بھتہ خوری اور تشدد کا بھی سامنا کرتے ہیں۔
جو شخص ان کے مطالبات ماننے سے انکار کرے، اسے جان اور روزگار کے نقصان کا خوف دکھایا جاتا ہے۔
آپ کو یاد ہے دو روز قبل وڈھ وپیر کے مقام پر مسلح جتھے کے کارندوں نے بھتہ نہ ملنے پر ڈیزل سے لوڈ زمیاد کو آگ لگائی تھی ۔
بلوچستان کے مقامی لوگ عام شہری بندوق بردار جتھوں کی جبر سے تنگ آ چکے ہیں۔
بلوچستان کا عام شہری امن، تحفظ اور باعزت روزگار چاہتا ہے،فوج خفیہ اداروں کے آلہ کاروں ،ڈیتھ اسکوائڈ بندوق برداروں کی غلامی نہیں۔


