تہران (ہمگام نیوز) ایران کے شہر کرمانشاہ میں 16 سالہ لڑکی حنا راکان کو اس کے والد مجتبیٰ راکان نے 29 اگست کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا جب وہ سو رہی تھی۔ حنا کو والد کی جانب سے تعلیم (صرف چوتھی جماعت تک)، موبائل فون اور دیگر ذرائع سے محروم رکھا جاتا تھا۔

ہنگاؤ آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے مطابق، والد نے اس شک کی بنیاد پر اسے قتل کیا کہ ایک دور دراز رشتہ دار نے حنا سے شادی کی کوشش کی ہے اور بیٹی اس کے ساتھ رابطے میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کی شہر کرمانشاہ میں 16 سالہ لڑکی حنا راکان کو اس کے والد نے اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا جب وہ سو رہی تھی۔

ہینگاؤ آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق حنا کو 29 اگست کی شام کو اس کے والد مجتبیٰ راکان نے سر میں اس وقت گولی ماری جب وہ سو رہی تھی۔

حنا کئی سالوں سے اپنے والد کی طرف سے عائد کی گئی سخت پابندیوں اور تشدد سے متاثرہ گھرانے میں رہتی تھی۔ اس نے صرف چوتھی جماعت تک ہی پڑھائی کی  اور بعدازاں اسے تعلیم جاری رکھنے سے روک دیا گیا۔

اس کے والد نے اسے موبائل فون رکھنے سے بھی منع کیا ہوا تھا۔ رشتہ داروں نے بتایا کہ مجتبیٰ راکان کی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ تشدد اور بدسلوکی کی تاریخ رہی ہے۔

اس کیس سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ایک دور دراز کے رشتہ دار نے حال ہی میں حنا سے اس کے علم میں لائے بغیر شادی کرنے کی کوشش کی اور نکاح کی پیغام کو  اس کے والد تک پہنچایا.

مجتبیٰ راکان اس شک میں کہ حنا پہلے سے اس شخص کے ساتھ رابطے میں ہے، اسے غصہ آیا اور ہفتے کی شام اس نے اپنی بیٹی کے سر میں ہینڈگن سے گولی مار کر اسے ہلاک کر دیا۔