اصفہان (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق، آج پیر، 28 ستمبر 2026 کی صبح اصفہان کی مرکزی جیل میں ایک بلوچ قیدی کو پھانسی دے دی گئی۔ مذکورہ قیدی کو اس سے قبل منشیات سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پھانسی پانے والے قیدی کی شناخت 35 سالہ عبدالغنی سالارزہی کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ شادی شدہ اور پانچ بچوں کے والد تھے اور ان کا تعلق زاہدان سے تھا جہاں وہ مقیم تھے۔

ذرائع کے مطابق عبدالغنی کو 2019 میں زاہدان میں منشیات سے متعلق ایک مقدمے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں اصفہان منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں اصفہان کی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی اور آج صبح مرکزی جیل اصفہان میں اس سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

 ذرائع نے بتایا کہ عبدالغنی کو محض ایک دوسرے شخص کے بیان کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق گرفتاری کے وقت عبدالغنی کے قبضے سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے اعداد و شمار میں بلوچ شہریوں کو ایران میں پھانسی کی سزا پانے والے گروہوں میں نمایاں طور پر زیادہ متاثرہ آبادی قرار دیا جاتا ہے ۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حقِ زندگی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور اسے عالمی سطح پر عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق سمیت متعدد بین الاقوامی دستاویزات میں تسلیم کیا گیا ہے۔ متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں سزائے موت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کے ایسے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن میں عدالتی کارروائی، مؤثر قانونی نمائندگی تک رسائی اور مبینہ دباؤ کے تحت حاصل کیے گئے اعترافات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایسے معاملات ایران کی جانب سے حقِ زندگی سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔