اصفہان (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق: آج پیر، 5 اکتوبر 2026 کی صبح اصفہان کی دستگرد جیل میں ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے دو افراد کو پھانسی دے دی گئی۔ دونوں افراد کا تعلق اصفہان کے احتجاج سے متعلق ’’میدان علیخانی‘‘ کیس سے بتایا گیا ہے۔

پھانسی پانے والے دونوں قیدیوں کی شناخت علیرضا سپاہی اور علیرضا رئیسی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق علیرضا سپاہی اور علیرضا رئیسی کو ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اصفہان کی عدالت نے انہیں سکیورٹی سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

علیرضا سپاہی کی پھانسی ایسے وقت میں دی گئی جب ان کے مقدمے کو اس سے قبل ایران کی سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے دوبارہ جائزے کے لیے اصفہان کی عدالت کی ایک ہم سطح شاخ کو بھیجا تھا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق متعلقہ عدالت نے بغیر کسی سماعت کے صرف 48 گھنٹوں کے اندر ان کی مقدمے پر نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی اور سزائے موت کا فیصلہ دوبارہ نافذ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اصفہان کے ’’میدان علیخانی‘‘ کیس میں ملزمان کی گرفتاری کے بعد سے ہی منصفانہ عدالتی کارروائی کے حق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں غیر علنی مقدمات، جبری اعترافات حاصل کرنے کے لیے مبینہ تشدد اور عدالتی فیصلے کے حتمی ہونے سے قبل سرکاری ذرائع ابلاغ پر ان اعترافات کی تشہیر شامل ہے۔

ان دونوں سزاؤں پر عمل درآمد ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر میں موت کی سزا کے خاتمے کا عالمی ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے ایران میں احتجاجی مظاہرین اور اقلیتوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔