تہران(ہمگام نیوز) ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مخصوص محفوظ بحری راستوں کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کرلیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے بحری جہازوں کے لیے مقررہ محفوظ راستوں کے جغرافیائی کوآرڈینیٹس طے کرلیے ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران اور عمان اس بات پر بھی متفق ہوگئے ہیں کہ ان راستوں کے جغرافیائی نقاط متعلقہ بین الاقوامی بحری ادارے تک کس طریقے سے پہنچائے جائیں گے۔
یہ پیش رفت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے مرحلہ وار فریم ورک کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک نے اس سے قبل اگست میں ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے، سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے اور مستقبل میں مستقل بحری راستہ بنانے پر اتفاق کیا تھا۔
اس منصوبے میں بحری ٹریفک کے انتظام اور متعلقہ معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے طریقہ کار پر بھی کام شامل ہے۔
تاہم ایران اور عمان کے درمیان محفوظ راستوں کے کوآرڈینیٹس پر اتفاق کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی گئی ہے یا تجارتی جہازوں کو غیر مشروط اور مکمل محفوظ گزرنے کی ضمانت حاصل ہوگئی ہے۔
ایران پہلے بھی واضح کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کا انحصار وسیع تر علاقائی حالات پر ہوگا۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب بعض ایسے راستوں کو بند کرنے کا منصوبہ ہے جنہیں تہران ’’غیر قانونی راستے‘‘ قرار دیتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں آمدورفت میں رکاوٹ عالمی تیل اور توانائی کی سپلائی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔


