بدھ، 29 جولائی 2026

تہران (ھمگام نیوز) ہنگاو کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں چار قیدیوں کو پھانسی دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پھانسی پانے والے قیدیوں کی شناخت علی رسولی، احساق مرہ‌ای، شمس الدین افشاری اور فرج یحیایی کے نام سے ہوئی ہے۔ ان قیدیوں کو قتل، منشیات سے متعلق الزامات اور مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہنگاؤ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، منگل 28 جولائی 2026 کی صبح ہمدان سینٹرل جیل میں علی رسولی نامی قیدی کی پھانسی پر عمل درآمد کیا گیا۔ علی رسولی کا تعلق ہمدان سے تھا اور انہیں قتل عمد کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد عدالتی نظام کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

دوسری جانب پیر 27 جولائی 2026 کو مشہد کی وکیل آباد جیل میں بلوچ قیدی احساق مرہ‌ای کو خفیہ طور پر پھانسی دے دی گئی۔ ان کے خاندان کو پھانسی کے عمل کے بارے میں پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی۔

ذرائع کے مطابق احساق مرہ‌ای شادی شدہ اور پانچ بچوں کے والد تھے۔ وہ صوبہ خراسان رضوی کے شہر سرخس کے علاقے سنگر گاؤں کے رہائشی تھے۔ انہیں 2020 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بیرجند کے راستے پر ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان پر منشیات سے متعلق الزامات عائد کیے گئے اور انقلاب عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔

رپورٹ کے مطابق احساق مرہ‌ای کی پھانسی بھی خفیہ طور پر دی گئی اور ان کی لاش منگل 28 جولائی 2026 کو خاندان کے حوالے کی گئی۔

اس کے علاوہ اتوار 26 جولائی 2026 کو زنجان سینٹرل جیل میں دو ترک قیدیوں، شمس الدین افشاری اور فرج یحیایی، کی پھانسی پر عمل درآمد کیا گیا۔

51 سالہ شمس الدین افشاری کا تعلق زنجان سے تھا۔ وہ چار بچوں کے والد اور پک اپ گاڑی کے ڈرائیور تھے۔ انہیں 15 اکتوبر 2024 کو ابہر شہر میں ایک چور کے ساتھ جھگڑے کے دوران اس شخص کی موت واقع ہونے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مقتول کے ورثا کی جانب سے 10 ارب ایرانی تومان دیت کی رقم ادا نہ کر سکنے کے باعث قصاص کی سزا نافذ کی گئی۔

28 سالہ فرج یحیایی کا تعلق خرم درہ سے تھا اور وہ زنجان میں پھلوں کی دکان پر کام کرتے تھے۔ انہیں دو سال قبل مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔

رپورٹ کے وقت تک ان چاروں قیدیوں کی پھانسی کی خبر ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ یا عدلیہ سے وابستہ اداروں کی جانب سے جاری نہیں کی گئی تھی۔