ایمسٹرڈیم (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ (ایف بی ایم) کی نیدرلینڈز برانچ کے زیرِ اہتمام 27 مارچ کو بلوچستان پر قابض پاکستان کے جبری قبضے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ مظاہرہ ایمسٹرڈیم کے مصروف ترین مقام ڈیم اسکوائر میں کیا گیا، جو دوپہر 13:30 بجے شروع ہو کر 15:00 بجے تک جاری رہا۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان کی آزادی، انسانی حقوق کی بحالی اور قابض پاکستان کے خلاف نعرے درج تھے۔ مقررین نے 27 مارچ 1948 کو بلوچ قوم کے لیے ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روز ایک آزاد ریاست بلوچستان پر زبردستی قبضہ کرکے اس کی خودمختاری کو ختم کیا گیا۔

فری بلوچستان موومنٹ کے سینئر رکن عبید اللہ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچ قوم اپنی تاریخ کو دہرانے اور عالمی دنیا کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے میدان میں نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض پاکستان نے الحاق کے نام پر بلوچ قوم کی مرضی کے خلاف تسلط قائم کیا اور آج تک طاقت کے ذریعے اس قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بلوچ ایکٹیوسٹ ڈاکٹر عبدالطیف بلوچ نے کہا کہ 27 مارچ 1948 بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم مگر سیاہ باب ہے، جب ایک آزاد ریاست کو زبردستی پاکستان کے ساتھ ملایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تب سے آج تک قابض پاکستان بلوچ عوام کے خلاف ریاستی جبر، انسانی حقوق کی پامالیوں اور نسل کشی میں ملوث ہے۔

مقررین نے ڈچ حکومت اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں قابض پاکستان کے مظالم، جبری قبضے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموشی توڑیں اور بلوچ قوم کی آواز سنیں۔

مظاہرہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، جہاں شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بلوچستان کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے اپنی سیاسی و سفارتی جدوجہد عالمی سطح پر جاری رکھیں گے۔