ہلسینکی (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے 27 مارچ 1984 کو بلوچستان پر جبری قبضے کے خلاف فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسینکی میں ایک پروقار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں، کارکنان اور انسانی حقوق کے حامیوں نے شرکت کی۔ مقررین نے مقبوضہ متحدہ بلوچستان کی آزادی، بلوچ قوم کو درپیش سنگین مسائل اور ریاستی جبر پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صادق رئیسانی ایڈوکیٹ، ایم بی مری بلوچ، ڈاکٹر سیموئیل بلوچ، علی گل بلوچ، ڈاکٹر نوہان بلوچ اور فری بلوچستان موومنٹ فن لینڈ برانچ کے آرگنائزر مھران مری بلوچ نے کہا کہ 27 مارچ بلوچ تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے، جب قابض پاکستان نے بلوچستان پر جبری قبضہ کیا، جو آج بھی مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور ریاستی جبر مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔
مقررین نے قابض پاکستان اور ایران دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں منظم ریاستی دہشت گردی جاری ہے، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، فوجی جارحیت اور اجتماعی سزائیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو بغیر کسی عدالتی عمل کے قتل یا لاپتہ کیا جا چکا ہے، جبکہ اہلِ خانہ انصاف کے لیے دربدر ہیں۔
تقریب میں بلوچ خواتین کی ابتر صورتحال پر بھی خصوصی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچ خواتین بھی ریاستی جبر سے محفوظ نہیں، انہیں غیر قانونی حراست، ذہنی و جسمانی تشدد اور قید جیسی صورتحال کا سامنا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شفیع اللہ یوسفزئی، عبدالباری بڑیچ اور جنرل فیض اللہ کوچی نے اپنے خطاب میں بلوچ اور افغان اقوام کے تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اقوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور موجودہ حالات میں باہمی اتحاد اور مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
واجہ ابراہیم بلوچ اور عراق سے تعلق رکھنے والے نوجوان مصطفیٰ نے کہا کہ ایران اور قابض پاکستان کی جانب سے بلوچستان پر قبضہ اور بلوچ قوم کے خلاف جاری مظالم عالمی برادری کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور بلوچ قوم کو انصاف فراہم کریں۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے بلوچ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچ قوم متحدہ بلوچستان کی آزادی، قابض پاکستان اور ایران کے خلاف اپنی آواز کو مزید بلند کرے گی اور بلوچ شناخت، زبان، سرزمین اور تاریخ کے تحفظ و بحالی کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔















