تہران (ھمگام نیوز) ذرائع کے مطابق، بدھ 10 جون 2026 کی صبح ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران جنوبی ایران کے بعض علاقوں، جن میں جاسک، سیریک اور قشم شامل ہیں، پر مبینہ امریکی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ پیش رفت خلیجی خطے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق آج علی الصبح مکران کے ساحلی علاقوں اور جنوبی ایران کے بعض جزیروں میں دھماکوں اور وسیع پیمانے پر فوجی سرگرمیوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعض ذرائع نے جنوبی ساحلی علاقوں میں سیکیورٹی الرٹ کی سطح میں اضافے اور معمولاتِ زندگی میں خلل کی بھی اطلاع دی ہے، تاہم اب تک ممکنہ نقصانات یا مبینہ اہداف کے بارے میں کوئی تفصیلی اور مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج کے بعض عرب ممالک کی سمت میزائل داغے ہیں۔ ان دعوؤں کے بعد بحرین میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ بعض ذرائع نے کویت اور قطر کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی تاحال کسی آزاد اور سرکاری ذریعے سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب اس سے قبل جنوبی سمندری حدود میں ایران کی جانب سے امریکی فوج کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت اور فیصلہ کن ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے تنازع کے مزید پھیلنے کے امکان کی جانب اشارہ کیا تھا۔
علاقائی مبصرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خلیج میں سلامتی، فضائی نقل و حرکت اور بین الاقوامی بحری تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم زمینی حقائق اور مختلف دعوؤں کی تصدیق کے لیے مزید سرکاری اور آزاد ذرائع سے معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔















