منجانب فرزندان بلوچ
حصہ دوم:
1600 میں قائم ہونے والی ایسٹ انڈیا کمپنی “تجارتی سرمایہ داری نظام” کی پالیسیوں کا ایک حصہ تھی۔ جسکے تحت انگلستانی تجارت کی نظریں ایسی غیرملکی منڈیوں کی تلاش میں رہنے لگیں جہاں سے سستا مال خرید کر دوسرے منڈیوں میں مہنگی فروخت کر سکے۔ اس سلسلے میں دیگر یورپی تجارت بھی میدان میں کھڑے ہوئے تھے۔ یورپیوں کی منڈیوں پر اجاراہ داریاں قائم کرنے کے سلسلے میں ڈچ، پرتگیزی، فرانسیسی و برطانوی (اور) یورپی اقوام کے مابین زبردست تجارتی و سیاسی کشمکش شروع ہوئی۔ اور یہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے لگے۔ اس دوران تجارتی سرمایہ داریت پہ صنعتی سرمایہ داریت نے غلبہ پا لیا۔ اب مفادات اور استحصالی پالیسیوں میں تبدیلی آئی اور سامراج کی نظریں محکوم و مظلوم اقوام کے علاقوں اور وسائل پہ گڑھ گئیں تاکہ صنعتی سرمایہ کاری کیلئے خام مال حاصل کیا جا سکے۔ (اسی طرح) پرتگال، اسپین اور ولندیزی اپنے داخلی جاگیرداری نطام اور کتھولک چرچ سے چمٹے جانے کی وجہ سے تجارتی و صنعتی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ (لہذا) صرف برطانوی اور فرانسیسی ایک دوسرے سے نبردآزما رہے۔ آخر دوسو سالہ جنگ و کشمکش کے بعد 1763 میں انگریز زبردست عالمی طاقت بن کر اُبھرے۔ اسی اثناء میں انگریز نے انڈیا پر اپنا تسلط جمایا۔ 1772 میں وارن اسٹنگر گورنر جنرل انڈیا بنتے ہی انگریز دانشوروں سے مقامی قومی تاریخ و زبان کا مطالعہ کروایا۔ “لڑاؤ اور حکومت کرو” کی اپنی سامراجی پالیسی کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں کیلئے الگ الگ قوانین متعارف کروایا۔ اس سے قبل ہندو اور مسلمان آپس میں کسی اختلاف کے بنا باہم اتفاق سے ملکر رہ رہے تھے۔ جن قوتوں سے انگریزوں کو خطرہ تھا انکو کمزور و منتشر کرنے کیلئے رجعت پرست قوتوں کو بڑھاوا دیا۔ اسی طرح آزادی پسند اور قوم پرست قوتوں کے مقابلے میں مذہبی بنیاد پرست و احیاء کی تحریکوں کو متحرک کروایا۔ ہندو مسلم اختلافات و نفرت کے بیج بونے کے ساتھ پرمننٹ روینج سسٹم (مستقل بدلہ) قائم کرتے موروثی جاگیرداروں کا ایک طبقہ پیدا کیا۔ انگریزوں کے اس وفادار طبقے نے اپنے ہم وطن آزادی پسندوں اور قومی تحریکوں کو ناکام بنانے کیلئے انگریزوں کی بھرپور مدد کی۔
اس دوران برطانوی سامراج نے بلوچ سرزمین کا رخ کیا اور 1839 کو اس سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ کیونکہ بلوچستان جوکہ برصغیر سے الگ ایک خودمختیار ریاست تھا۔ یہ بلوچ ریاست اور اسکا ہمسایہ ملک افغانستان دونوں جغرافیائی لحاظ سے انگریزوں کے توسیع پسندانہ عزائم کیلئے نہایت موضوع تھے۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ بھی انگریز کے ہاتھوں سے نکل کر تیزی سے ترقی کی جانب گامزن تھا۔ اور روس بھی 1835 سے تیزی سے اپنے فارورڈ پالیسی کے تحت بلوچ سرزمین کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا جسکی نگاہ ساحل بلوچ تھی۔ افغان حکومت نے انگریز کی نسبت روس کیلئے اپنی سرحدیں کھول رکھی تھی ساتھ ہی انگریز کی نظریں بھی روس (اور) وسط ایشیاء میں لگی ہوئی تھی۔ یورپ جب خود فرانس برطانیہ کیلئے رکاوٹیں کھڑی کر رہا تھا۔ برصغیر میں 1857 کی جنگ نے بھی انگریز کی آنکھیں کھول دی تھی۔ اسلئے انگریز نے 1870 میں جسمانی غلامی کی بجائے زہنی غلامی کی حکمت عملی پہ کام شروع کر دیا۔
اس حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی گماشتوں کے ذریعے انگریزی تعلیم دلا کر اپنے وفادار پیدا کرنے کی ابتدا کر دی۔ سرسیداحمد خان نے اس وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ اس یونیورسٹی کے پرنسپل ہمیشہ انگریز رہے (اور) عملے کی اکثریت بھی انگریز تھی۔ جسکا نصاب یورپ سے درآمد شدہ تھا (اور) یہی کالج ہندو مسلم فرقہ پرستی کی بنیاد بن گیا۔ اور انگریز نے کانگریس کی بجائے مسلم لیگ کی بنیاد رکھ دی۔ اور اپنے پالے ہوئے محمدعلی جناح کو آگے کردیا جو خود مسلمان نہ ہو کر بھی مسلمانوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔ حالانکہ اسی جناح نے شروع میں پاکستان کی تصور کا مذاق اڑایا تھا۔ جس کا حوالہ دیتے ہوئے سری پرکاش نے جو نومبر دسمبر 1934 کے عام انتخابات میں کانگریس کی ٹکٹ پہ سینٹرل لاجسلیٹو اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا تھا (نے) اپنے ایک مضمون پاکستان کا تصور میں لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں انگریزوں کی جانب سے کیمبرج سے شائع شدہ ایک پمفلت بعنوان “پاکستان” ممبروں میں تقسیم کروایا گیا جس میں “پ” سے مراد پنجاب، “الف” سے مراد افغانستان، “ک” سے مراد “کشمیر” اور انڈیا کے صرف دو مسلم اکثریت کے صوبوں کو شامل کیا گیا جس سے لفظ پاکستان مکمل ہوتا ہے (یاد رہے بلوچستان کا برصغیر سے الگ ایک خودمختیار ریاست ہونے کی وجہ سے اس پمفلٹ میں کوئی ذکر نہیں تھا)۔ سر ہنری کریک جو اسمبلی ممبر تھے اس (پمفلٹ) کو پڑھ کر ہنسنے لگے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ مسٹر جناح نے سب سے زیادہ دیر تک اس تصور کا مذاق اڑاتے ہوئے ہنستے رہے۔
یہ اسمبلی 1937 میں ختم ہو جاتی ہے لیکن پاکستان کے وجود کو حتمی شکل دینے اور ہندو مسلم فسادات کو بڑھاوا دینے کیلئے یہ اسمبلی 1945 تک برقرار رہی۔ اور مسٹر جناح برطانوی مفادات کے تحت کام کرتے ہوئے پاکستان کیلئے راہ ہموار کرتے رہے۔ جس میں انھیں امریکی سامراج کا تعاون بھی حاصل رہا جو کہ قیام پاکستان کے ٹھیک تین ماہ اور سولہ دن پیشتر یکم مئی 1947 کو مضمون کے مطابق جناح سے بمبئی میں دو امریکی نمائندوں ایک محکمہ خارجہ کے جنوبی ایشیائی کی امور کے شعبہ کے سربراہ ایمندائے اور انڈیا میں امریکی سفارت خانہ کے سیکٹری تھامس ای ویل نے ملاقات کی اور مستقبل کا پلان طے پا گیا۔ یہ ملک امریکی مفادات کے تحت سویت یونین کے خلاف اہم کردار ادا کرے گا۔
اپنی حکمت عملی کے تحت برطانوی ماہرین برصغیر کے اقوام کی نفسیات کا بھی بغور جائزہ لیتے رہے کہ مستقبل میں جو انکے مفادات کے تحفظ اور اس علاقے میں انتشار پھیلاتے ہوئے سامراجی حربوں کیلئے راہ (ہموار) کونسی قوم کر سکتا ہے۔ اسی طرح انکی نگاہ انتخاب پنجابی قوم پر پڑ گئی۔ بعد ازاں جب انگلستان جنگ عظیم کے بعد معاشی حوالے سے دیوالیہ پن کا شکار ہوا تو اس نے امریکی سرپرستی میں پناہ ڈھونڈ لی۔ اور اقوام کو “آزادی” دینے کے نام پہ خطوں کو تقسیم سے دوچار کر دیا تاکہ مستقبل میں بھی ان علاقوں میں وہ اپنے مفادات کے تحت فائدہ اٹھا سکے۔ اس طرح 14 اگست 1947 کو پنجابیوں کا پاکستان بنا اور 1948 میں بلوچ سرزمین کو انگریز سازش اور پنجابی منافقت کے تحت جبری طور پر اسے پنجابی ملک میں شامل کر لیا گیا۔
بعد ازاں جب استعماری مفادات کے تحت پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس ریاست نے عالمی سامراج امریکہ اور اسکے حواری برطانیہ کے خدمت گزاری میں اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ اب پوری دنیا اسکی شیطانیت (اور) کمینگی سازشوں سے آگاہ ہے۔ آج بھی ساری دنیا میں امریکی مفادات کو فائدہ پہنچانے کیلئے پاکستانی بھٹو فوج اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ آج بھی افغانستان (اور) عراق میں امریکی مفادات کو ترقی دینے کیلئے پیش پیش ہے۔ حال میں اس بنا پر عراق میں مزاحمت کاروں نے آئی آیس آئی کے ایجنٹوں کا سر قلم کر دیا۔
بحرحال ہم اس تاریخی بحث سے قطع نظر ہم اب پنجاب کے دانشوروں کے تذبذب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ وہ اپنے تحریروں میں پنجاب کے اس تاریخی کردار پہ وضاحتیں کرتے پھر رہے ہیں (جیسا کہ) احمد بشیر، فخر زمان، احمد سلیم، حنیف رائے ان دانشوروں میں سر فہرست کیوں نظر آتے ہیں۔ جو کہ اپنی ہر تحریر میں یہ وضاحت کرتے ہیں کہ پنجاب نے مزاحمت کی ہے۔ لیکن انکی وضاحت دلائل کی بجائے صرف لفاظی پر مشتمل ہے۔ جبکہ حنیف رائے نے “پنجاب کا مقدمہ” میں ایک تحریر کیا ہے (کہ) “بیل چونکہ قدیم پنجاب کی علامت ہے اسلئے آج بھی پنجابیوں کو بیل کہہ کر پکارا جاتا ہے”۔ جبکہ بیل ایشیاء میں صرف فرمانبرداری کی علامت ہے۔ جو کہ مالک کے اشارے پر آنکھیں بند کر کے کولہو (تیل نکالنے والی چکی) پر گھومتا رہتا ہے۔ اسلئے تو حنیف رائے کو فورا اس بات کا احساس ہوا تھا آگے چل کر اس نے لکھا ہے کہ پنجابی اپنی حقیقت کو پہچانیں اپنی شناخت تلاش کرے (کہ) وہ کیا ہے اور تاریخ میں انھوں نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہم پنجاب کی تاریخی کردار پر بحث کریں تو یہ مزید طول ہوتا جائے گا۔ آئیے اس سوال پر کیا بلوچ اپنی مرضی سے پنجابی کالونیل سسٹم میں شامل ہوا تھا۔
اس سوال کا جواب اس لئے ہی نفی میں ہے کہ بلوچ سرزمین کو اپنے جغرافیائی سرحدی محل وقوع اور تجارتی و فوجی اہمیت کے حوالے سے ایشیاء میں ایک اہم ترین ریاست کی حثیت حاصل رہی ہے اور اس سرزمین پر ہزاروں سالوں سے بلوچ آباد (ہیں)۔ قوم کا رشتہ اس سے اتنا گہرا ہے اور (بلوچستان کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے) اس سرزمین کی وجہ سے بیرونی قوتوں کی ہر وقت اس پر نظریں گڑھی رہی ہیں۔ بلوچستان کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے بلوچ قبائل و بلوچ تاریخ دان اسکے معترف ہیں کہ اس قوم نے ہمیشہ اپنے سرزمین کی حفاظت اور تقدیر کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ بلوچ کی تاریخ مزاحمت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اگر ہم بلوچ تاریخ پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں تو ان کا مختصر خلاصہ یہ نکلے گا کہ بلوچ سرزمین کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ بلوچوں کو اپنے سے زیادہ طاقتور بیرونی ریاستوں سے ٹکرانا پڑا۔ بلوچوں نے کبھی بھی آرام سے بیٹھ کر بزم آرائی نہیں کی۔ بلکہ میدان رزم کی گرم بازاری ہی انکے حصے میں آئی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی زندگی مزاحمتی جنگ و جدل میں گزاری ہے۔ بلوچ مزاحمتی تاریخ انتہائی (زیادہ) ہے لیکن ہم مختصرا صرف پنجابی ریاست کے خلاف بلوچ مزاحمت کی تاریخ بیان کریں گے۔ تاکہ یہ بات کھل کر سامنے آ جائے کہ بلوچ اپنی مرضی سے اس ریاست میں شامل نہیں ہوا تھا۔
3 جون 1947 کو لارڈماؤنٹ بیٹن نے وائسرائے ہند نے برصغیر کی تقسیم کے ساتھ تمام ریاستوں کی آزادی کا اعلان کیا۔ تو 17 جون 1947 کو جناح کا بیان اخباروں میں شائع ہوا۔ آئینی و قانونی طور پر برطانوی زیر تسلط تمام ریاستیں برطانوی اقتداراعلی کے ختم ہوتے ہی آزاد و خودمختار ریاست ہوں گے اور اپنے لیئے اپنی پسند کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرنے میں آزاد ہوں گے۔ اسی طرح 4 اگست 1947 کو ایک کانفرنس زیرصدارت لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہوئی۔ اس کانفرنس میں میر احمد یار خان کے علاوہ جناح اور لیاقت خان نے بھی شرکت کی۔ اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 15 اگست 1947 کو بلوچ ریاست کی خود مختیار حثیت بحال ہو جائے گی جو کہ 13 اگست 1839 سے قبل تھی۔ اس دوران خان قلات میر احمد یار خان، جناح اور لیاقت علی خان کے درمیان ایک معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔ جو بعد میں ایک اعلامیہ کی صورت میں اگست کو شائع ہوا۔ جسکا پہلا نقطہ یہ تھا کہ حکومت پاکستان جو خود بھی دس روز بعد وجود میں آ رہا ہے۔ ریاست قلات کو ایک خود مختیار ریاست کی حثیت سے جسکے معاہداتی تعلقات براہ راست حکومت برطانیہ سے ہے۔ جسکا منصب و مرتبہ ہندوستان کے دیگر ریاستوں سے مختلف ہے تسلیم کرتی ہے۔
15 اگست 1947 کو بلوچ ریاست کی سابقہ آزاد حثیت بحال ہو گی لیکن کالونیل ایجنٹ پنجابی نے پہلے (سے) اسکو ہڑپ کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ اکتوبر 1947 کو جناح نے میر احمد یار خان کو کراچی بلا کر باقاعدہ دھمکی دی کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ستمبر اور دسمبر 1947 میں بالترتیب “دارلعوام” اور “دارلاامرا” میں اس پر بحث ہوئی تو بلوچ عوام کے منتخب نمائندوں اور بلوچ قبائل کے سرداروں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بھرپور مخالفت کی۔ تو نہ صرف جناح خود سبی آئے جبکہ دوسری جانب سے پاکستانی فوج کے کوئٹہ میں موجود بریگیڈ کو قلات پر حملے کی تیاری کا حکم بھی دیا۔ پھر سازش کے تحت خاران، لسبیلہ بعد ازاں 17 مارچ 1948 کو مکران کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا گیا۔ اس طرح یکم اپریل 1948 کو پاکستانی فوج کو قلات میں داخل ہو کر خان قلات کو نظر بند کرنے کا حکم ملا تو خان نے الحاق پر رضا مندی ظاہر کی اور یکم اپریل سے قبل 30 مارچ کو کراچی جا کر ان پر دستخط کر دیئے۔
آغا عبدالکریم خان نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے اپنے سات سو ساتھیوں سمیت افغانستان کا رخ کیا اور اپنی حکمت عملی ترتیب دینے کے بعد مئی 1948 میں پاکستانی فوج کے خلاف چھاپہ مار کاروائی شروع کی۔ لیکن سازشی پنجابی فوج نے چال چلی اور جنرل اکبر خان اور خان میر احمد یار خان کو قرآن پاک دیکر پہاڑوں میں آغا عبدالکریم کے پاس میڑھ بھیجا تو آغا صاحب قرآن کی حلف پر پہاڑوں سے نیچے اترے۔ لیکن پنجابی چالبازوں نے قرآن کے حلف کو پس پشت ڈال کر آغا عبدالکریم خان سمیت دوسو بلوچ سرفروشوں کو گرفتار کیا اور آغآ صاحب کو دس سال کیلئے جیل بھجوا دیا گیا۔ 1955 میں اپنی رہائی کے بعد آغا عبدالکریم خان نے “استمان گل” کی بنیاد رکھ دی۔ (تو) بلوچستان میں آزادی کا تسلسل جاری رہا۔ بلوچ قوم میں غلامی کے خلاف بے چینی بڑھ گئی۔ تو پنجابی فوج نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے 6 اکتوبر 1958 کو بلوچستان پر دوبارہ چڑھائی کروا دی۔ خان قلات کو اسکے محل سے گرفتار کر لیا گیا اور اسکے اگلے بروز 17 اکتوبر کو پاکستان نے مارشل لاء نافذ کر دیا گیا تو پورے بلوچستان میں پاکستان کے اس فوج کے خلاف بغاوت کر دی گئی۔ جس نے ریاست قلات کے اسلحہ خانہ اور مال خانہ پر ہاتھیا لیا تھا۔ اس دوران تین سو قبائلی عمائدین کو گرفتار کر لیا گیا اور کلی کیمپس میں ازیتیں دی گئی۔ مری، بگٹی، ساراوان اور جھالاوان کے قبائلیوں نے پاکستانی فوج کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دی۔ سب سے بڑا دستہ نواب نوروز خان زرکزئی کا تھا جس میں سات سو قبائلی شامل تھے اور نواب نوروز خان کی عمر اس وقت 90 نوے سال تھی۔ ایک سال تک پورے بلوچستان میں ان چھاپہ مار حملوں کی وجہ سے پاکستانی فوج کو عزیت اٹھانی پڑی۔ آخر کار ناکام ہو کر اس نے وہی پرانی چال چلی اور اپنے حواری سرداروں کو قرآن پاک دیکر نواب نوروز کان کو میڑھ کر کے پہاڑوں سے اتارا اور پھر اپنے حلف پر قائم نہ رہتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔ نواب نوروز خان اور انکے چند رفقاء کو عمر قید سنائی گئی اور میر سبزل خان زرکزئی، میر بھاول خان موسیانی، میر ولی محمد زرکزئی، میر جمال خان نیچاری، میر مستی خان موسیانی، میر بٹے خان زرکزئی اور میر غلام رسول نیچاری کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ جیل حکام کے مطابق جب ان جیالوں کو تخت دار کی جانب لے جایا گیا تو جیل کے درودیوار انکی “بلوچستان زندہ باد اور آزاد بلوچستان” کے نعروں سے گونج اٹھا اور ساتھ ہی انہوں نے گلے میں قرآن مجید ڈال رکھا تھا۔ انکا کہنا تھا پنجابی حکمرانوں نے قرآن پر کئے اپنے عہد کو توڑا ہے لہذا قرآن کو بھی ہمارے ساتھ پھانسی دی جائے۔ بعد ازاں میر علی محمد مینگل، میر نیک محمد مینگل، میر وزیر خان مری، میرنوریزخان بڈھانی مری اور دیگر ہزاروں بلوچ سرفروشوں نے 1967 تک پنجابی بزدل فوج کے خلاف چھاپہ مار جنگ کو جاری رکھا۔ اسی طرح 1970 کی دھائی میں پنجابی فوج اور ایرانی حکمرانوں نے سازش کے تحت بلوچ سرزمین پر خون کی ہولی کھیلی گئی کیونکہ انکو یہ خوف دامن گیر تھا کہ بلوچ قومی تحریک ایک مخصوص رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اور ایشیاء پر اسکے واضح اثرات مرتب ہونگے اور اس قوم کے سرزمین پر موجود وسائل سے اپنے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اسلئے 1973 میں اسی (80) ہزار فوج بلوچستان میں داخل ہوئی جن کو ایرانی فوج کی کمک بھی حاصل تھی اور ایرانی پائیلٹ جن کے پاس امریکی کومبیٹ طیارے (ہیلی کاپٹر) بھی تھے۔ بلوچ سرزمین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے لیکن بلوچ قوم کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور بلوچ مسلح جدوجہد پہ یقین رکھنے والے آزادی پسندوں نے 1973 سے 1977 تک پنجابی فوج کے خلاف چھاپہ مار جنگ کی۔ خود پنجابی حکمران اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس چھاپہ مار جنگ میں انھیں اس قدر نقصان اٹھانا پڑا کہ جس قدر انہوں نے انڈیا کے ساتھ تین جنگوں میں بھی نہیں اٹھایا تھا۔ اب ایک بار پھر ملٹی نیشنل کمپنیوں، گوادر کی اہمیت، بلوچ سرزمین پر موجود وسائل اور امریکی سامراج کے اس خطے میں دلچسپی کے باعث اور بلوچ سرزمین پر بلوچ قومی تحریک آزادی کے منظم طریقے سے آگے بڑھنے کی وجہ سے پنجابی کو خطرے کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ اور ایک بار پھر فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ چھاونیوں کے قیام کا رٹہ زور پکڑ رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب بھی بلوچ اس پنجابی کے ساتھ اسکی غلامی میں زندگی گزار سکتے ہیں جو خود غلاموں کے غلام ہے۔ اب فیصلہ بلوچ قوم کے ہاتھ میں ہے کہ وہ مستقبل کیلئے کون سی راہ متعین کرے گی۔
پنجابی کی غلامی؟، یا قومی آزادی؟















