منجانب فرزندان بلوچ
حصہ اول:
زمانہ جاہلیت میں مظلوم اقوام اور انکی سرزمین پر قبضہ کرنے والے جابر اقوام و حکمران بڑی آسانی سے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجاتے تھے کہ وہ خدا یا دیوتاؤں کے بھیجے ہوئے عقلمند، قابل حکمران اور قاصد ہیں۔ اور خدا یا دیوتاؤں کے حکم سے ان پر مسلط ہوئے ہیں۔ اس سے انکا مقصد یہ ہوتا کہ محکوم و مظلوم اقوام کے افراد خدا یا دیوتاؤں کے خلاف انہیں چیلنج نہ کریں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ محکوم اقوام کو اس ڈرامے کی سمجھ آتی گئی اور خدا اور دیوتاؤں کی پشت پناہی ختم ہو گئی۔ تو سامراجی اقوام نے سرمایہ دارانہ نظام کے بل بوتے پر وسائل کی لوٹ کھسوٹ و مارکیٹ پر تسلط جمانے کی غرض سے اقوام اور انکی سرزمین پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ (یوں) سامراج کا ہر کھیل پندرھویں صدی سے لیکر آج تک جاری ہے۔ موجودہ دور میں سامراجی حربے کی وجہ سے تمام دنیا میں ایک قومی کشمکش برپا ہے۔ (اسی طرح) قبضہ گیری کے اس تمام عمل میں جابر و سامراجی اقوام کو موقع پرست و چاپلوس افراد کی حمایت و کمک حاصل (تھا) اور موجودہ دور میں بھی حاصل ہیں۔ (لہذا) چاپلوس و موقع پرست افراد نے اپنی انہیں خدمات کے صلے میں سامراج سے مفادات و مراعات بھی حاصل کی ہیں۔ کالونیل ایجنٹ پنجابی نے اسی طرح کے سامراجی خدمات کے صلے میں پاکستان حاصل کیا۔ قوموں کی نفسیات کا علم یعنی “علم النفس” کے ماہرین میں دو معتبر ترین نام فرانس کے ڈاکٹر گسٹاولی یان اور مسلم مفکر اور تاریخ دان ابن خلدون کے ہیں۔ ان دانشوروں نے دنیا کے قوموں کی نظام اخلاق کا مطالعہ کیا۔ ان کے تاریخ و تمدن میں گہری و مشاہداتی نگاہ ڈالی اور ایک جدید فلسفہ تاریخ کی بنیاد رکھ دی۔ انکی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی کہ جس طرح ہر شخص میں ایک مخصوص روح ہوتی ہے۔ جسکے مطابق وہ اپنے تمام ذاتی کام انجام دیتا ہے بلکل اسی طرح ہر قوم کے قالب میں بھی ایک خاص روح ہوتی ہے۔ اسکے مخصوص اخلاق اور خواص ہوتے ہیں۔ علم و مذہب، تہذیب و تمدن، ملک و سلطنت اور قوانین کی نفس ہر قوم کا سرمایہ حیات ہے۔ انہیں چیزوں کی ترکیب و امتزاج سے ہر قوم کا تاریخی و نفسی مواد تیار ہوتا ہے اور اخلاق ہی قوموں کے مزاج عقلی کو پیدا کر سکتا ہے (اور) یہی مزاج عقلی کو پیدا کر سکتا ہے۔ یہی مزاج عقلی ہر قوم کی تاریخ کا ماخذ ہیں۔ اس سے مدبرین کو راہ ہدایت ملتی ہے کیونکہ اس کی بدولت ہر قوم میں چند اوصاف ایسے پائے جاتے ہیں جو ناقابل تغیر و تبدیل ہیں۔ ڈاکٹر گسٹاولی یان اس سلسلے میں مذید اضافہ کرتے ہیں کہ اوصاف و خصوصیات قوموں میں جن اسباب کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں یا نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ ان میں آباؤاجداد کا اثر، خاندان کا اثر، جغرافیائی حدود، آب و ہوا اور گردوپیش کے چیزوں کے اثرات قابل ذکر ہیں۔
اس بات کا قرآن میں بھی ذکر ہے کہ ” وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباواجداد کو جس روش پر پایا وہ ہمارے لیئے کافی ہیں۔ وہ لوگ کہتے ہیں ہم نے اپنے آباواجداد کو جس روش پر پایا ہم اسکی تقلید کرتے ہیں”۔ (لہذا) تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے دیگر ماہرین محقق و دانشورین کا بھی یہی خیال ہے کہ ماضی کی (مستند) صحیح تحقیق اور قومی نفسیات کے مطالعہ و مشاہدہ کسی بھی معاشرہ میں بسنے والے اقوام کو سامراجی نفسیات اور مختلف معاشروں میں موجود چاپلوس و موقع پرست افراد کی خصلت و سامراجی تسلط کے ہتکنڈوں کا عکس دکھا سکتی ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں اگر ہم بلوچ قوم اور پنجابی کی ماضی کا جائزہ لیں، انکی قومی نفسیات کا مشاہدہ کریں، انکی تاریخ و تمدن کا مطالعہ کریں (اور) انکے نظام اخلاق یعنی اوصاف و خصائل پر ایک نگاہ ڈالیں تو بلوچ قوم کا پنجابی کی نوآبادی بننے کی تاریخ کو دہرائیں تو آسانی سے ان سوالات کا ادراک کر لیں گے کہ 1۔ کیا بلوچ نے اپنے مرضی سے کالونیل ایجنٹ پنجابی کی غلامی کو قبول کیا۔ (یا انکو) پاکستان وراثت میں ملی اور اسکے کالونیل ایجنٹ میں شامل ہوا۔ 2۔ اگر نہیں تو پھر وہ کیا حالات تھے جنکی وجہ سے بلوچ ریاست کو اس کالونیل ایجنٹ پنجابی سامراج کی جانب سے وراثت میں پاکستان کے جھوٹ پر مبنی اس کالونیل ایجنٹ پنجابی کے ساتھ کسی بھی طرح کے شرائط پر یونین میں رہ سکتے ہیں؟
ان سوالات کا جواب جاننے کیلئے پہلے ہم پنجابی قوم کے ماضی کا جائزہ لیں تاکہ اسکے معاشرتی نفسیات، قومی مزاج اور خصلتوں کو سمجھ سکیں اور اسکے پس منظر میں پنجابی کی حیثیت و حقیقت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس عالمی تغیر و تبدل کے دور میں بلوچ کے مستقبل کی راہ متعین کر سکیں۔ خود پنجابی دانشوروں نے ڈاکٹر مبارک علی کے زیر صدارت شائع ہونے والی” سہ ماہی تاریخ” کے پنجاب نمبر میں اپنی تحریروں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پنجابی سنجیدگی و گہرائی سے نابلد شیخی باز،موقع پرست (اور) مزاحمت کے جذبے سے عاری چاپلوس و عیار قوم ہیں۔
اس طرح اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں احمد ندیم قاسمی بڑے غمزدہ انداز میں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ افسوس ماسوائے دُلا بھٹی اور احمد کھرل کے ہمارا کوئی مزاحمتی ہیرو نہیں۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ پنجابی کی خصلت میں چاپلوسی کوٹ کوٹ کر پھری ہوئی ہے۔ اس بنا پر مہابھارت سے لیکر پانی پت کی لڑائیوں تک پنجابی سرزمین شمال سے جنوب کی جانب حملہ آوروں کیلئے گذرگاہ کا کام دیتا آیا ہے۔ پنجابی نے اپنی چاپلوصانہ و موقع پرستانہ خصلت کی وجہ سے اپنے مفادات کے تحت فائدہ اٹھائے ہوئے ان حملہ آوروں کو کوہ ہندوکش کی سنگلاخ دروں اور دلی و آگرہ کے تخت و طاؤس کی جانب راہ دکھائی ہیں۔ اپنی سرزمین پر حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کی بجائے انکی خوب آؤبھگت و ہر طرح سے انکی دلجوئی کی ہے۔ جبکہ ان حملہ آوروں کی نظریں دہلی و آگرہ کی زر و جواہر پر لگی ہوئی تھی۔
اسکی بنیادی وجہ پنجابی قوم کی وہ قدیمی و بنیادی نفسیات ہے۔ جسکا ذکر تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہیں۔ پنجابی کے اسی تاریخی نفسیات کو پیش نظررکھ کر ایک پنجابی محقق اشفاق اسلم مرزا اپنے تحقیقی مقالہ “پنجاب کے قدیم باشندے” میں لکھتا ہے کہ “پنجابی کی تاریخ کی کہانی بھی عجیب ہے۔ کیونکہ ماہرین بشریات و نسلیات ابھی تک اس سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں اور ہم خود بھی اپنی جونہی جڑوں کو تلاش کرتے ہیں تو اپنی شناخت کے حوالے سے ہمارے لئے تذلیل کا باعث (بنتا) ہے۔ کیونکہ ہماری شجرہ نسب و جڑوں کے تلاش کے نتائج کچھ اچھے نہیں نکلتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہم رگ ویدؔ کا مطالعہ کریں تو اس میں ہمیں بہت سے ایسے پیرائے ملیں (گے) جن میں پنجابیوں کو زبان، شکل و شباہت، مذہب کے لحاظ سے آریاؤں سے الگ “داس یا داسو” بتایا گیا ہے۔ گیرین ولڈ کا کہنا ہیکہ داس یا داسو پنجاب کے قدیم ترین باشندے اور موجودہ پنجابیوں کے جدامجد تھے۔ (اسی طرح) دوہزار قبل مسیح میں جب آریائی لوگ اردگرد کے علاقوں میں پھیلتے ہوئے پنجاب میں وارد ہوئے تو انہوں نے داسوں سے نفرت کا اظہار کیا۔ کیونکہ داسوں کی طرز معاشرت، بری خصلتیں، موقع پرستی اور روایات انتہائی حقارت آمیز تھے۔ رگ وید آریاؤں کی قدیم کتاب ہے جو کہ برصغیر میں قدیم ترین اور محفوظ ترین دستاویز کی حثیت رکھتی ہے۔ جسے ہندومت میں الہامی کتابوں کا بھی مقام حاصل ہے۔ اس کتاب میں چار ہزار سال قبل کے حالات، واقعات و کیفیات کی عکاسی کرتی ہیں۔ (اسی طرح) اس کتاب (میں) اکثر داسوں کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے (کہ) سیاہ رنگت کے یہ اناس (بغیر ناک والے یعنی بے شرم) شیطان صفت، موقع پرست اور بری زبان بولنے والے لنگم کی پرستش کرنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ سنسکرت میں تجارتی لین دین، اجرت اور مکلے کو “پن” کہتے ہیں۔ اسی نسبت سے تجارتی اجناس کو “پنیہ” کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں “اداس یا داسوں” اپنے تجارت پیشہ افراد کو “پنی” کہتے تھے (جو کہ غالبا بعد میں پنجابی کی وجہ تسمیہ بن گیا)۔ مہابھارت اور یونانی مؤرخین کے ہاں داسوں اور انکے اس تجارتی طبقہ “پنی” کے بارے میں ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ یہ موقع پرست، لالچی اورپیشہ ور لوگ ہیں۔ انکی عورتیں عریاں حالت میں گلے میں پھولوں کا ہار ڈالے گلیوں اور کھیتوں میں گھومتی ہیں اور گھوڑوں کی طرح ہنہناتی ہوئی چارہ کی طرف بھاگتی ہیں۔
اسی طرح “غدر یا مدرا” قبائل کا تعلق بھی داسوں سے تھا جنکا مرکزی شہر ساکلا یعنی موجودہ سیالکوٹ تھا۔ اسکا ذکر مہابھارت اور یونانی مورخین کے ہاں ان الفاظ میں ملتا ہے “مرد عورتیں خوبصورت اور الہڑ تھی جنکی محبت کی داستانیں نہ صرف اردگرد کی ریاستوں بلکہ دوردراز تک پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ کندھوں پر ایک چادر نما کمبل اوڑھتی (اور) وہ پاکباز نہیں بے شرم تھی۔ مرد نہ صرف اپنی عورتوں کے ذریعے طاقتور اقوام کے افراد اور بیرونی حملہ آوروں کو پھنسا کراپنا مطلب نکالتے بلکہ گھروں میں ماں، باپ، بیٹے، بیٹیاں، سالے، سالیاں، رشتہ دار، داماد، دوست اور مہمان ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ میل ملاپ کرتے۔
“تاریخ پنجاب” میر محمد لطیف کی پنجاب کی تاریخ پر لکھی گئی وہ واحد کتاب ہے جو نہ صرف پنجاب کے تعلیمی نصاب میں شامل ہے بلکہ اسکو واحد مستند تاریخی تحقیق شمار کیا جاتا یے۔ اس میں مندرجہ بالا باتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
پنجابی نے ہر موڑ پر حملہ آوروں کو خوش آمدید کیا ہے اور ساتھ ہی انکی دلجوئی بھی کی ہے۔ اسلئے پنجابی نسل کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ انواع و اقسام کی نسلوں پر مشتمل ہے۔ مختلف نسلوں کا خون اسکی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ ڈاہیا اپنی تحقیق کی بنیاد پر یہ کہتا ہے کہ “پنجابی قبائل راجپوت، جاٹ، گوجر اور آہیر وسط ایشیا کے حملہ آوروں کے ساتھ ملاپ کا نتیجہ ہے”۔ چونکہ پنجابی نے ان بیرونی حملہ آوروں کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ خدمت گزاری میں ان حدوں کو بھی پار کیا۔ یہ حملہ آور عرصہ درازتک پنجاب میں سکونت پذیر رہے۔ شاید اس بات کو سامنے رکھ کر اشفاق سلیم مرزا اپنے مقالمہ پنجاب کے قدیم باشندے کی تمہید میں لکھی ہے کہ ” پنجاب کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر کوئی اجنبی کسی پُر رونق چوراہے پر کھڑے ہو کر آتے جاتے ہوئے لوگوں پر نظر ڈالے تو وہ جگہ ایک تماشا گاہ دکھائی دے گی۔ ہر جسمانی ساخت و رنگ کے افراد نظر آئیں گے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ جب ساکا قبائل نے پنجاب کا رخ کیا تو پنجاب کے باسیوں نے انکے خلاف مزاحمت کرنے کی بجائے انکی اتنی آؤ بھگت کی کہ آگے بڑھنے کی بجائے انکی اکثریت نے پنجاب کے مغربی علاقوں میں مستقل سکونت اختیار کی۔
جرنیلی سڑک جو کابل کو دلی سے منسلک کرتی ہے۔ پنجاب کے وادی گنگا سے ہو کر پنجاب کے دیگر علاقوں سے گزرتی تھی۔ جو بیرونی حملہ آوروں کیلئے گزرگاہ اور پنجابی کیلئے آمدنی کا ذریعہ تھی۔ سکندراعظم کے لشکر نے اسی گزرگاہ سے ہو کر مختلف علاقوں کو تخت تاراج کیا۔ اس راہ گذر پہ پنجاب کے تجارتی مراکز اٹک، جہلم اور گجرات کے باشندوں نے انکی نہ صرف آگے بڑھنے میں رہنمائی کی بلکہ انکی خوب آؤبھگت بھی کی۔ گیارہویں صدی میں غزنوی حکمرانوں نے لاہور کو اس لیئے اپنا سلطنت بنایا کہ اس علاقے کے باشندے انتہائی تابع فرمان تھے۔ یہاں ہر قسم کا سامان تعیش بھی میسر تھا۔ لاہور کو اکبر، جہانگیر اور شاہجہان کے دور میں انتہائی عروج حاصل ہوا۔ یہاں ان حکمرانوں کی دلجوئی کا خاص اہتمام ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے باشندے اپنی موقع پرستانہ خصلت کی بنا پر نہایت فرمانبردار تھے۔ اکبر نے 1584 سے 1598 تک افغانستان اور کشمیر پر فوج کشی کے مقصد سے لاہور میں دربار منعقد کی۔ جہانگیر 1622 سے تادم مرگ لاہور میں قیام پذیر رہا۔ شاہجہان نے بھی اپنے عیاشیوں کیلئے 1642 میں شالامار باغ کی تعمیر شروع کی۔ 1821 سے رنجیت سنگھ کی سربراہی میں سکھوں نے اپنی حکومت قائم کی (لہذا) باقی پنجابی سکھ پنجابیوں کی اس حکومت سے ناخوش تھی۔ اسی لئے 1849 میں انگریزوں کی پنجاب کو فتح کرنے سے باقی کے پنجابیوں کو انتہائی خوشی ہوئے۔ انہوں نے جی و جان سے انگریزوں کو خوش آمدید کہا۔ ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ “انگریزوں کی پنجاب کو فتح کرنے کے بعد پنجاب انکا سب سے بڑا وفادار صوبہ بن گیا”۔
انگریزوں کی دور حکمرانی پر پنجاب میں انگریزوں کا نمائندہ آئن ٹالبوٹ نے ایک کتاب پنجاب اینڈ دا راج 1849 تا 1947 لکھا میں تفصیل سے پنجابیوں کی وفاداری کا ذکر موجودہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ “انگریز سمندری راستوں سے ہندوستان میں داخل ہوئے بنگال، مدراس اور بمبئی کے بعد 1841 سے 1849 کے درمیانی عرصے میں سکھوں سے لڑائیوں کے بعد پنجاب پر قبضہ کر لیا تو اہل پنجاب نے جشن منا کر انگریزوں کو خوش آمدید کہا۔ پھر 1857 کی جنگ آزادی کے دوران پنجابی کی وفاداری نے انگریزوں کے دلوں میں پنجابی پر اعتماد میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ انگریز کے لئے سب سے بڑے وفادار ایجنٹ بن گئے۔ دوسری بات پنجاب اس لئے بھی انگریزوں کیلئے مذید اہمیت اختیار کرتا چلا گیا (کیونکہ) یہاں سے انہیں مقامی ایجنٹ بڑی تعداد میں میسر آئے۔ جن پر وہ ہر گھڑی اعتماد کر سکتا ہے۔ انگریزوں کے نوآبادیاتی انتظامیہ کے ساتھ استوار ہو جانے والے اس غیر رسمی تعلق نے بعد ازاں اداروں کی شکل اختیار کی۔ چنانچہ پہلے تو یہاں انگریزوں کے وفادار سیاسی گروہوں کی تشکیل ہوئی جو بالاآخر سیاسی جماعتوں کا روپ اختیار کر گئے۔ ان سیاسی جماعتوں میں تنظیم اور عوامی حمایت کا غیر معمولی فقدان تھا۔ پھر 1923 میں اس نے یونیسٹ پارٹی کی شکل میں ایک باقاعدہ سیاسی جماعت کا روپ اختیار کیا۔ جو کہ فضل حسین کی سربراہی میں برطانوی حکومت کے وفادار زمینداروں پر مشتمل تھی۔ یونیسٹ پارٹی کو انگریزوں نے اتنی قوت بخشی کہ یہ بیس سال تک صوبے کی سیاست پر چھائی رہی۔ 1923 سے 1939 تک یونیسٹ پارٹی نے انگریزوں کو دیہات میں سماجی کنٹرول کو برقرار رکھنے میں مدد دی اور سامراج کے خلاف بڑھنے والے تناؤ کو بڑھنے نہ دیا۔
پھر جب انگریز نے مسلم لیگ بنا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو پنجابی 1944 سے جوق در جوق اس میں اسلئے شامل ہوئے کہ انگریزوں کے منصوبے کے تحت مسلم لیگ کا مطالبہ پاکستان انکی پنجابی ریاست کی منزل تھی۔ اسلئے 1946 میں ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت عام انتخابات میں یونیسٹ پارٹی کو نہ صرف شکست سے دوچار کر دیا بلکہ اس پارٹی کو پنجابیوں نے ختم کر دیا۔ اس دن سے ہی پنجاب کو مستقبل کے پاکستان کا دل قرار دیا جانے لگا۔ بلکہ جناح نے یہاں تک کہا کہ “پنجاب ہی پاکستان کا بنیادی پتھر ہے”۔
1857 کے بعد پنجاب انگریز حکومت کا اتنا مطیع و فرمانبردار رہا کہ ہندوستان کے دیگر علاقے کھلے عام صدائے احتجاج اور باغیانہ رویوں کے امین رہے جبکہ پنجاب کی فرمانبرداری اس قدر تھی کہ یہ خطہ انگریزوں کے ہندوستانی فوج کا گھر اور عیاشوں کا اڈہ بن گیا۔ انگریزوں کو اپنے فوج کیلئے موزوں ترین ریکروٹ یہی سے میسر آئے۔ پنجابیوں کی غالب اکثریت پر مشتمل اس رضاکار فوج نے وسیع استعماری مفادات کے تکمیل کیلئے ناقابل فراموش خدمات سر انجام دی۔ جسکے ذریعے نہ صرف ہندوستان میں برطانوی راج کو استحکام حاصل ہوا جبکہ مشرق وسطی اور جنوب مشرقی ایشیاء میں انگریز اثرورسوخ کی ترویج میں اس فوج نے مرکزی کردار ادا کیا۔
امیر شریعت حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاری کی کتاب سواطع الالہام سے ایک نظم پنجاب کے بارے میں
ندیدم کشورے مردود و مرتاب
میں نے ایسی مردود اور لعنتی زمین کبھی نہیں دیکھی
بشومیہائے کفر آباد پنجاب
جیسی کہ غلاموں اور کفر سے بھری ہوئی زمین پنجاب کی ہے
چہ ملکے ننگ و عار ہفت کشور
یہ کیا ملک ہے سات براعظموں کا ننگ و عار ہے
ز شرق و غرب بادش خاکی برسر
مشرق و مغرب کی خاک اس کے سر پر پڑے
خمیر طینتش مردم کشیہا
انکی خمیر انسانوں کو ہلاک کرنی والی ہے
ز قتل مسلمشں باشد خوشہیا
مسلمانوں کے قتل عام میں بھی پنجابی کی خوشی ہے
چہ پیرانش مریدان فرنگی
پنجاب کے پیر فرنگوں کے مرید ہیں
لقب کا فور و ذات پاک زنگی
یہ باہر سے اُجلے اجلے ہیں لیکن اندر سے کالے ہیں
ز نواب و رئیسانش چہ پُرسی
پنجاب کے بڑے لوگوں کے بارے میں کیا پوچھتے ہو
سگ و سگ زادگان کرسی بہ کرسی
یہ کتوں کی اولاد اور نسل در نسل کتے ہیں
چناں فرزند ناہموار زاید
جیسا کہ پنجابی لڑکے پیدا ہوتے ہیں
کہ از خر قیمتش برتر نیاید
تو انکی قیمت گدھے جتنی بھی نہیں ہوتی
چکد از لالہ اش خون مسلماں
پنجابیوں کے چہرے مسلمانوں کے خون پی کر لعل ہیں
از نالاں حجاز و مصر و ایران
پنجابیوں کی وجہ سے حجاز مقدس، مصر اور ایران ہم سے ناراض ہیں
جوانانش غلامان فرنگی
پنجاب کے جوان فرنگیوں کے غلام ہیں
پناہ شان بد امان فرنگی
انکی پناہگاہیں فرنگیوں کے دامن میں ہیں
چہ پنجاب آں فرنگی را معسکر
پنجاب کیا ہے؟عالمی سامراج کی چھاؤنی ہے
معسکر را غلام احمد پیمبر
اس چھاؤنی کا لیڈر غلام احمد قادیانی ہے
ضلالت را پیمبر ہست پنجاب
گمراہی کا پیمبر بھی پنجاب ہے
فرنگی را معسکر ہست پنجاب
سامراج کی چھاؤنی پنجاب ہے
فضائش کفر ریز و کفر بیز است
پنجاب کے معنی کفر بکھیرنی اور کفر اُگانی
بآئین الہی درستیز است
پنجاب اللہ کے دین سے ہمیشہ جنگ کرتا ہے
مملک ہند و شد ارض الجواسی
برصغیر میں پنجاب ہی جاسوسوں کی سرزمین ہے
نہ جان محفوظ و نے سوں ندامیں
پنجاب میں نہ جان محفوظ ہے نہ ہی عزت محفوظ ہے
زمین فتنہ زائے فتنہ خیزے
پنجاب کی زمین فتنوں کی زمین ہے
کہ شیطان پیش پابش سجدہ ریزے
پنجاب کے سامنے تو شیطان بھی سجدہ ریز ہے
اگر ہم پنجابیوں کیلئے بننے والی ریاست پاکستان جائزہ لیں تو ساری سازشوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔















