کرمان (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق آج 30 ستمبر 2026 بدھ کی صبح کرمان جیل میں دو بلوچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ دونوں قیدیوں کو اس سے قبل منشیات سے متعلق الزامات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پھانسی پانے والے قیدیوں کی شناخت تقریباً 43 سالہ علی عالی زہی، ولد فیض محمد، اور حمید شہیکی، ولد فقیر، کے ناموں سے کی ہے۔ علی عالی زہی شادی شدہ اور صاحبِ اولاد تھے اور زاہدان کے رہائشی تھے، جبکہ حمید شہیکی شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے اور ریگان شہر کے رہائشی تھے۔

ذرائع کے مطابق علی عالی زہی کو تقریباً آٹھ سال قبل منشیات سے متعلق الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ کرمان جیل میں قید تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح انہیں پھانسی دے دی گئی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتاری کے وقت علی عالی زہی کے پاس کسی قسم کی منشیات موجود نہیں تھیں۔ ان کے مطابق ایرانی فورسز کے اہلکاروں نے انہیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ’’خالی ہاتھ‘‘ تھے، جبکہ ان کے خلاف عائد کیا گیا واحد الزام منشیات سے متعلق تھا۔

ایک ذریعے کے مطابق علی عالی زہی کو کرمان کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، جس پر بدھ کی صبح عمل درآمد کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی نے گرفتاری کے بعد تقریباً آٹھ سال جیل میں گزارے، تاہم اس عرصے کے دوران ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کی مسلسل سامنے آنے والی رپورٹس، بالخصوص ایسے مقدمات جن میں عدالتی کارروائی کے شفاف ہونے پر سوالات، مؤثر قانونی نمائندگی تک رسائی کی کمی اور دباؤ کے تحت اعترافات لیے جانے کے خدشات موجود ہوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک حقِ زندگی سے متعلق ایران کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔