کیف (ہمگام نیوز) یوکرین میں Free Nation کے زیرِ اہتمام ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں مختلف شہری، سیاسی اور قومی آزادی کی تحریکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد آزادی، حقِ خودارادیت اور جبر و قبضے کے خلاف مزاحمت جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال تھا۔
اس موقع پر Free Balochistan Movement کے نمائندے فیض محمد بلوچ نے شرکت کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری صورتحال کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا اور بین الاقوامی سول سوسائٹی کے نمائندوں سے رابطہ مضبوط کرنے پر زور دیا۔
Free Nation ایک یوکرینی شہری تنظیم ہے جو آزادی پسند اقدار، شہری حقوق اور قومی خودمختاری کی حمایت کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس سے قبل بھی یہ تنظیم بے وطن اور مظلوم اقوام کے نمائندوں کے ساتھ مکالموں کی میزبانی کر چکی ہے۔ ایف بی ایم کی اس تقریب میں شرکت کو بلوچ آزادی کی تحریک اور عالمی سول پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جس سے بلوچستان کے مسئلے پر عالمی توجہ کی ضرورت مزید واضح ہوتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیض محمد بلوچ نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلوچستان ایک قدیم سرزمین اور ایک ایسی قوم ہے جسے طاقت کے زور پر تقسیم کیا گیا۔ ان کے مطابق بلوچستان آج تین حصوں میں منقسم ہے، مگر اس تقسیم کے باوجود بلوچ قوم نے اپنی شناخت، خودمختاری اور آزادی کے حق سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت بلوچ تاریخ کا مستقل حصہ رہی ہے۔
انہوں نے پاکستان اور ایران کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بلوچ عوام کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں، فوجی آپریشنز، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور منظم جبر کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی جبر نے بلوچ قوم کے حوصلے پست کرنے کے بجائے آزادی کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ایرانی ریاست کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قاجار دور سے لے کر پہلوی عہد اور موجودہ اسلامی جمہوریہ تک بلوچوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ انہوں نے Reza Pahlavi کے حوالے سے کہا کہ تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور غیر فارسی اقوام کے خلاف ماضی کے مظالم آج بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔
فیض محمد بلوچ کے مطابق ایران اور پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں ڈرون حملوں، سرحدی باڑ کی تعمیر اور معاشی پسماندگی کو دانستہ پالیسی کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں سزائے موت کا غیر متناسب استعمال بلوچ عوام کے خلاف کیا جا رہا ہے، جو نسلی بنیادوں پر جبر کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے یوکرین کے عوام کی مزاحمت کو مثال بناتے ہوئے کہا کہ جو قومیں جارحیت اور قبضے کا سامنا کرتی ہیں، وہ آزادی کی قدر کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق آزادی کے خطرے میں مزاحمت ایک انتخاب
نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔
خطاب کے اختتام پر فیض محمد بلوچ نے مظلوم اور مقبوضہ اقوام کے درمیان عالمی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعاون محض علامتی نہیں بلکہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس کے ذریعے قبضہ کرنے والی قوتوں کی ساکھ کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اقدار میں وفاداری بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور آزادی کی جدوجہد اتحاد، یکجہتی اور ثابت قدمی سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔
تقریب میں شریک دیگر نمائندوں نے بھی بلوچستان سمیت دنیا بھر میں آزادی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والی اقوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔















