تہران (ھمگام نیوز) انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں 80 قیدیوں کو پھانسی دی گئی، جن میں 17 سیاسی قیدی بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2025 کے مقابلے میں پھانسیوں کی تعداد میں 83 واقعات کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال اسی مہینے میں کم از کم 163 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، جبکہ مئی 2026 میں یہ تعداد 80 رہی۔ ہینگاو کے مطابق پھانسی پانے والے 76 افراد کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ چار دیگر افراد کی شناخت کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ پھانسی پانے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ 28 سالہ اسما زارعی، جو پارس آباد سے تعلق رکھتی تھیں، کو قتل کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد اردبیل سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران ہونے والی 80 پھانسیوں میں سے صرف 15 واقعات کا اعلان سرکاری ایرانی ذرائع ابلاغ یا عدلیہ سے وابستہ میڈیا اداروں نے کیا۔ اس طرح تقریباً 81 فیصد پھانسیوں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی۔ اسی عرصے میں 19 قیدیوں کو خفیہ طور پر پھانسی دی گئی۔ ان کے اہل خانہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی آخری ملاقات کا موقع فراہم کیا گیا۔ 17 سیاسی قیدیوں کی پھانسی ہینگاو کے مطابق مئی 2026 کے دوران 17 سیاسی قیدیوں کو مختلف الزامات کے تحت پھانسی دی گئی۔ ان میں چار کرد سیاسی قیدی اور دو غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ ان پر محاربہ، اسرائیل کے لیے جاسوسی اور دیگر سکیورٹی الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پھانسی دیے گئے سیاسی قیدیوں میں ناصر بکرزاده، یعقوب کریم پور، مهراب عبدالله زاده، ابراہیم دولت آبادی، مهدی رسولی، محمدرضا میری، عرفان شکورزاد، عبدالجلیل شاه بخش، احسان آفرشته، محمد عباسی، رامین زاله، کریم معروف پور، مجتبی کیان، اکبر مرادی فیض آبادی اور غلامرضا خانی شکرآب شامل تھے۔ ہینگاو نے یہ بھی تصدیق کی کہ دو عراقی شہری، علی نادر العبیدی اور فاضل شیخ کریم، جنہیں اپریل 2026 میں پھانسی دی گئی تھی، ان کے مقدمات کی تفصیلات پہلی مرتبہ مئی 2026 میں منظر عام پر آئیں۔ الزامات کے لحاظ سے پھانسیاں رپورٹ کے مطابق قتل کے مقدمات میں سزا پانے والے افراد سب سے بڑی تعداد میں پھانسی پانے والوں میں شامل تھے۔ – قتل کے مقدمات: 36 افراد – منشیات سے متعلق مقدمات: 26 افراد – سیاسی اور جاسوسی کے الزامات: 17 افراد – زیادتی کے مقدمے میں: 1 فرد نسلی اور قومی بنیاد پر اعداد و شمار مئی 2026 کے دوران پھانسی پانے والوں میں: – فارسی: 26 افراد – کرد: 17 افراد – بلوچ: 12 افراد – ترک: 8 افراد – گیلک اور مازنی: 4 افراد – لر: 2 افراد – عراقی شہری: 2 افراد – افغان شہری: 2 افراد – نامعلوم شناخت: 7 افراد علاقوں اور صوبوں کے لحاظ سے صورتحال رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ فارس میں ریکارڈ کی گئیں جہاں 14 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ اس کے بعد مغربی آذربائیجان اور اصفہان میں 11، البرز میں 9، رضوی خراسان میں 8، کرمانشاہ میں 4 جبکہ دیگر صوبوں میں مختلف تعداد میں پھانسیاں عمل میں آئیں۔ ہینگاو کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم سیاسی قیدیوں، نسلی اقلیتوں اور احتجاجی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کی پھانسیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خفیہ پھانسیوں، اہل خانہ کو اطلاع نہ دینے اور عدالتی شفافیت کے فقدان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔















