پیرس(ھمگام نیوز) فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نول بیروٹ نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادیوں میں اضافے اور فلسطینیوں پر تشدد میں اضافے کے خلاف احتجاج کے طور پر اسرائیلی آبادکاروں کو آئندہ دنوں میں مزید پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یورپی یونین نے گذشتہ ماہ کے آخر میں اسرائیلی آبادکاروں اور ان کی حمایت کرنے والی تنظیموں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

پبلک سینات ٹیلی ویژن اور آر ٹی ایل ریڈیو سے بات کرتے ہوئے بیروٹ نے ان یورپی ممالک کا نام تو نہیں لیا جو ان کے خیال میں مزید اقدامات نافذ کر سکتے ہیں۔ لیکن یورپی یونین کی سابقہ پابندیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا: “ہم مزید آگے بڑھ سکتے ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔”

رائٹرز نے ہفتے کے روز یورپی سفارت کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فرانس متعدد ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ مغربی کنارے میں تشدد سے منسلک افراد کو نشانہ بنانے کے لیے مربوط قومی پابندیاں لگائی جائیں۔

بیروٹ نے کہا، “میں مغربی کنارے میں آبادکاری کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافے پر انتہائی فکر مند ہوں۔”

انہوں نے کہا، “یہی وجہ ہے کہ میں نے نہ صرف اس تشدد کے ذمہ داروں بلکہ اسرائیل کے ان اداروں، کمپنیوں اور تنظیموں پر بھی پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا ہے جو ان انتہا پسند آبادکاروں کو فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے، ان کی فصلوں کو جلانے اور ان کی عوامی عمارات کو تباہ کرنے کے ذرائع فراہم کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ سابقہ اقدامات “اسرائیلی حکومت سے یہ مطالبہ کرنے کا ایک طریقہ تھے کہ وہ اس تشدد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا سامنا کرے جو میری نظر میں کسی حد تک ریاست کے اختیار کو بھی کمزور کرتا ہے۔”

بائیس مئی کو سات بڑی مغربی اقوام نے اسرائیل سے مغربی کنارے میں آبادیوں کی توسیع روکنے اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، “گذشتہ چند مہینوں کے دوران مغربی کنارے میں صورتِ حال کافی

خراب ہو گئی ہے۔”