تہران (ہمگام نیوز) ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کم ترین سطح پر ریکارڈ کمی ہوئی ہے، جہاں اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ممکنہ مزید پابندیاں، سفارتی تعطل اور خلیجِ فارس میں بڑھتی کشیدگی نے معاشی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس سے کرنسی کی قدر میں کمی اور خوراک و ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ 1970 کی دہائی میں 70 سے 75 ریال فی ڈالر کی قیمت کے موازنے میں یہ کمی انتہائی نمایاں ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے اور اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال سے تجاوز کرگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی کرنسی نے ہفتے کا آغاز تقریباً 18 لاکھ 65 ہزار ریال فی ڈالر سے کیا تھا، تاہم اس کے بعد ریال کی قدر میں مزید تیزی سے کمی ہوئی۔
ایرانی ریال کی موجودہ صورتحال ملک کو درپیش بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکا کی جانب سے مزید پابندیوں کے امکانات اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششوں میں تعطل نے بھی ایرانی مارکیٹ میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق غیر ملکی کرنسی کی بڑھتی ہوئی طلب اور امریکا کی جانب سے ممکنہ مزید اقتصادی دباؤ کے خدشات نے ریال کی قدر پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ایرانی تیل کی برآمدات، زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی اور بین الاقوامی مالی لین دین سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی سرمایہ کاروں اور شہریوں میں تشویش کا باعث ہے۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے ایران پر دباؤ نے بھی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ کرنسی کی گرتی قدر کے باعث ایران میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔
ایرانی ریال کی موجودہ قدر کا موازنہ اگر ماضی سے کیا جائے تو اس میں انتہائی نمایاں کمی نظر آتی ہے۔ 1970 کی دہائی کے وسط میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 70 سے 75 ریال کے برابر تھا، جبکہ اب اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کے لیے 20 لاکھ سے زائد ریال درکار ہیں۔















