کابل(ہمگام نیوز ) افغانستان کے مشرقی صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں پیر، 21 ستمبر 2026 کی علی الصبح قابض پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق جبکہ چار دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ حملے تقریباً تین ماہ کے نسبتاً سکون کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے بھی کنڑ میں تین شہریوں کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت کے مطابق پاکستانی طیاروں نے رات تقریباً 3 بجے کنڑ کے ضلع نرگل میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ چار دیگر زخمی ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی شامل ہیں، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ نے شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔
طالبان حکام کے مطابق پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی پاکستانی طیاروں نے دو مقامات کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں ایک دکان اور ایک غیر آباد مکان تباہ ہوا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان کا مؤقف
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف “محدود اور ہدفی” فضائی کارروائی کی۔
پاکستانی حکومت کے مطابق کارروائی میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں خودکش بمباروں کا ایک تربیتی مرکز بھی شامل تھا، اور 28 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ پاکستانی حکام نے ان کارروائیوں کو خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائی قرار دیا ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہ پاکستانی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے افغان حدود استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اسلام آباد کے دعوے کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتی ہے۔
طالبان کا ردعمل
طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں افغان سرزمین اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ طالبان کے چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کابل ان حملوں کا “مناسب جواب” دے گا۔
افغان وزارت خارجہ نے بھی پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے حملوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
تقریباً تین ماہ بعد دوبارہ فضائی حملے
تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تقریباً تین ماہ سے پاکستانی فضائی حملوں کا سلسلہ نسبتاً رکا ہوا تھا۔ اس سے قبل جون کے آخر میں پاکستان نے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کارروائی کی تھی۔
UNAMA کے مطابق جون کے آخر میں ہونے والی پاکستانی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 28 شہری ہلاک اور 49 زخمی ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ پاکستان نے اس وقت بھی کارروائی کا مقصد تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور جماعت الاحرار سے منسلک مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا قرار دیا تھا۔
کشیدگی میں دوبارہ اضافہ
تازہ فضائی حملے پاکستان میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والے مہلک عسکری حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں کوہاٹ میں پولیس کی ایک تنصیب پر حملہ بھی شامل تھا۔
رپورٹس کے مطابق ان واقعات کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہ پاکستانی علاقوں میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
حالیہ صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں، جبکہ جون میں بھی سرحد پار فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔
نوٹ: پاکستانی حکام کی جانب سے 28 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ اور افغان حکام و UNAMA کی جانب سے تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق الگ الگ دعوے ہیں۔ ان دعوؤں میں سے تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوئی۔


