زاہدان(ہمگام نیوز )جمعہ 2 اکتوبر 2026 کی صبح زاہدان کے علاقے رودماہی میں مسلح افراد نے افغان فاطمیون فورسز کو لے جانے والی ایک لینڈ کروزر گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ زاہدان کے علاقے رودماہی میں کلہ پدہ کے راستے پر اس وقت ہوا جب فاطمیون کے اہلکار گشت پر تھے۔ بعض سپاہ پاسداران انقلاب ایران سے قریبی سمجھے جانے والے ذرائع نے ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت احمد یعقوبی کے نام سے کی ہے اور اسے افغان شہری اور فاطمیون کا رکن بتایا ہے۔

ذرائع کے مطابق حملہ صبح تقریباً 6:30 بجے اس وقت ہوا جب فاطمیون اہلکار رودماہی کے علاقے میں کلہ پدہ کی جانب سفر اور گشت کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے فاطمیون کی گاڑی کے راستے میں نصب ایک دھماکا خیز آلہ پھٹا۔ گاڑی کے پچھلے حصے میں ایک دوشکا مشین گن بھی نصب تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے ہیں، تاہم اب تک صرف احمد یعقوبی کا نام سامنے آیا ہے، جبکہ دیگر ہلاک شدگان کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب قابض ایرانی سرکاری اور حکومتی ذرائع ابلاغ نے بھی حملے میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اسے “جنگجو” قرار دیا ہے، تاہم اس شخص کا نام یا شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ سرکاری ذرائع کی یہ تصدیق بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ مذکورہ شخص احمد یعقوبی ہی تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون فورسز کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس سے قبل 11 ستمبر 2026 کو بھی زاہدان کے علاقے رودماہی میں گشت کے دوران فاطمیون کے کم از کم چار ارکان کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔