واشنگٹن (ہمگام نیوز) امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے والے افراد کے لیے 2 کروڑ امریکی ڈالر تک انعام اور ممکنہ محفوظ مقام پر منتقلی کی پیشکش کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے زیرانتظام پروگرام ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ (Rewards for Justice) کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ انعام مقرر کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے مطلوبہ معلومات میں ایران کی جوہری تنصیبات، متعلقہ آلات، جوہری ٹیکنالوجی، سائنسی شعبے سے وابستہ افراد اور ان سے متعلق اہلکاروں کی نقل و حرکت کی تفصیلات شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق معلومات فراہم کرنے والے افراد کو 2 کروڑ ڈالر تک انعام دیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی ممکنہ محفوظ مقام پر منتقلی کی سہولت بھی انفرادی حالات کے مطابق فراہم کی جا سکتی ہے۔

امریکی حکام نے اپنے اعلان میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک پہنچا چکا تھا، جو جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کی سطح سے ایک مختصر تکنیکی فاصلے پر ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی معاہدوں کی ذمہ داریوں پر ایران کی عدم تعمیل کے باعث ایجنسی ایران میں سینٹری فیوجز سمیت اہم جوہری آلات کی پیداوار اور ذخیرے سے متعلق مسلسل نگرانی اور معلومات کے تسلسل سے محروم ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کا ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام 1984 میں قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکی قومی سلامتی اور مفادات سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے والوں کو مالی انعامات دینا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر ایران کے جوہری پروگرام کو امریکی حملوں کے نتیجے میں تباہ قرار دے چکے ہیں، تاہم تازہ انعامی پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے جوہری ڈھانچے، تنصیبات اور اس سے وابستہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔