لندن (ہمگام نیوز) یونیورسٹی آف ویسٹ لندن میں 20 اپریل کو انٹرنیشنل وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور اقوام متحدہ کے اکیڈمک امپیکٹ کے اشتراک سے ایک اہم تقریب منعقد کی گئی، جس کا مقصد پاکستان اور ایران میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا تھا۔
اس پروگرام میں یونیورسٹی کے طلبہ، اسکالرز، اساتذہ کے علاوہ بلوچ، پشتون، الاوازی، کرد اور دیگر محکوم اقوام کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں، طویل عرصے تک افراد کا لاپتہ رہنا، اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا، اور نام نہاد “کِل اینڈ ڈمپ” پالیسی جیسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
مقررین نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کے مسئلے پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل خاموشی انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔
تقریب کے آغاز میں ایک ویڈیو ٹیسٹیمونی بھی پیش کی گئی، جس میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی ریکارڈ شدہ اپیلیں شامل تھیں۔ ان ویڈیوز میں متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی اذیت ناک کہانیاں دنیا کے سامنے رکھیں۔
منتظمین کے مطابق اس تقریب کا مقصد لاپتہ افراد کے مسئلے کو محض سیاسی بیانیے کے بجائے علمی اور تحقیقی بنیادوں پر بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا، تاکہ اسے مستند شواہد اور حقائق کی روشنی میں سمجھا جا سکے۔
یہ تقریب اس بات کی عکاس ہے کہ تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر انسانی حقوق کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کر سکتے ہیں اور انصاف کے لیے اجتماعی آواز بلند کی جا سکتی ہے















