مشہد(ھمگام نیوز) ذرائع کے مطابق، منگل 9 جون 2026 کی علی الصبح مشہد کی وکیل آباد جیل میں ایک بلوچ قیدی کو پھانسی دے دی گئی۔ مذکورہ قیدی کو منشیات سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق پھانسی سے قبل اہل خانہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی آخری ملاقات کا موقع فراہم کیا گیا۔
پھانسی پانے والے بلوچ شہری کی شناخت 35 سالہ اسداللہ بہرہ ولد حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو تربت جام کے علاقے صالح آباد کے رہائشی، شادی شدہ اور ایک بچے کے والد تھے۔
رپورٹ کے مطابق اسداللہ بہرہ کو 2023 میں مشہد میں منشیات سے متعلق مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مشہد کی انقلابی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔ انہیں 8 جون 2026 کی شام پھانسی پر عملدرآمد کے لیے قیدِ تنہائی میں منتقل کیا گیا اور اگلی صبح اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر اور آخری ملاقات کے حق سے محروم رکھتے ہوئے سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران ایران کی 27 مختلف جیلوں میں بلوچ قیدیوں کے خلاف کم از کم 137 سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان میں زاہدان جیل 34 پھانسیوں کے ساتھ سرفہرست رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق پھانسی پانے والوں میں 94 افراد (تقریباً 68.6 فیصد) کو منشیات سے متعلق جرائم، 36 افراد (26.3 فیصد) کو قتل، 4 افراد (2.9 فیصد) کو سیاسی و نظریاتی الزامات، 2 افراد (1.5 فیصد) کو جنسی زیادتی کے الزامات جبکہ ایک شخص (0.7 فیصد) کو نامعلوم الزام کے تحت سزائے موت دی گئی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل اہل خانہ کو اطلاع نہ دینا اور آخری ملاقات سے محروم رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور شفاف قانونی طریقہ کار سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔















