واشنگٹن(ھمگام نیوز ) امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کی جوابی فوجی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی حملہ آور ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کیے گئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ’دفاعی نوعیت کی کارروائی‘ کے تحت ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

سینٹکام کے مطابق امریکی فضائیہ اور بحریہ کے جنگی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مراکز پر انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے حملے کیے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں امریکی افواج اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام حملے کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

امریکی حکام نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس امریکی بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث ب

ن سکتی ہیں۔