واشنگٹن (ہمگام نیوز) امریکہ نے 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے حوالے سے متعدد خلیجی عرب ممالک کو آگاہ کردیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن نے سفارتی اور فوجی ذرائع کے ذریعے علاقائی ممالک کو ممکنہ حملوں کی تیاری کے لیے پیغامات بھیجے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کا ممکنہ مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا بتایا جا رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاحال حملوں کی حتمی منظوری نہیں دے چکے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ایران کے جوہری مراکز اور اہم بنیادی ڈھانچے کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج خطے میں اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی ایک بیٹری ٹیکساس سے خطے میں منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی افواج ایسے فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو منتقل کر رہی ہیں جہاں انہیں ایرانی جوابی حملوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگی سازوسامان کے ذخائر دوبارہ بھرنے اور بمبار و لڑاکا طیاروں کو ممکنہ کارروائیوں کے لیے تیار کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

اخبار کے مطابق، نومبر میں ایک اضافی امریکی طیارہ بردار بحری جنگی گروپ اور میرینز پر مشتمل ایک مہماتی یونٹ بھی مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور ممکنہ کارروائیوں کے لیے تیاریوں میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے ممکنہ فوجی منصوبوں کی تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایران نے بھی کسی ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ تہران کی جانب سے خطے میں اقتصادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکان نے خلیجی ممالک میں سلامتی اور علاقائی استحکام سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

تاہم، تاحال امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کی حتمی منظوری یا ان کے آغاز کی کوئی باضابطہ تاریخ سامنے نہیں آئی۔ اس لیے انتخابات کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات کو فی الحال میڈیا رپورٹس اور نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔