ہرارے (ہمگام نیوز) زمبابوے کی کریبا جھیل میں 153 افراد (گنجائش 90) سے بھری کشتی لہروں اور عملے کی غلط فہمی کی وجہ سے الٹ گئی۔ کپتان نے واپس جانے کی درخواستوں کو نظرانداز کیا اور شدید طوفان کی وجہ سے پانی داخل ہونے لگا۔ اس حادثے میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہوئے اور 77 افراد کو بچایا گیا، جبکہ تلاش و ریسکیو کا عمل جاری ہے۔ یہ جھیل مقامی نقل و حمل کا اہم ذریعہ ہے جہاں 2014 میں بھی مسافر کشتی کے حادثے ہو چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق زمبابوے میں گنجائش سے زائد مسافروں کو لے جانے والی کشتی جھیل میں الٹ گئی جس کے نتیجے میں تمام مسافر ڈوب گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کشتی میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے جس پر مسافروں نے کشتی کے کپتان سے واپس چلنے کی اپیل بھی کی تھی لیکن اسی وقت حادثہ پیش آگیا۔
حادثے کے وقت کشتی میں سوار افراد کی اصل تعداد ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے کم از کم 114 بالغ مسافر اور 5 عملے کے ارکان رجسٹرڈ تھے لیکن ایک بچ جانے والے عملے کے رکن نے حیران کن انکشاف کیا۔
حادثے کی شکار کشتی میں مسافروں کی مقررہ گنجائش صرف 90 افراد تھی۔ ایک بچ جانے والے عملے کے رکن نے سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی کو بتایا کہ اس نے روانگی سے قبل کشتی میں تقریباً 153 افراد شمار کیے تھے جن میں عملہ اور بچے بھی شامل تھے۔
مسافروں کی گنجائش سے زیادہ تعداد ان مسافروں کی تھی جو ابھی کم عمر تھے اور اس وجہ سے سرکاری سطح پر ٹکٹنگ نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور یہی تعداد کشتی الٹنے کا سبب بنی۔
حادثے میں بچ جانے والے مسافروں نے بتایا کہ روانگی کے کچھ ہی دیر بعد جھیل میں لہریں شدید ہوگئیں اور کشتی میں پانی داخل ہونے لگا تھا۔ کشتی کے کپتان نے مسافروں کی توجہ دلانے کے باوجود کشتی واپس کنارے پر لے جانے کے مطالبے کو نظرانداز کیا۔
ایک خاتون مسافر نے بتایا کہ کشتی روانہ ہونے سے پہلے ہی بعض افراد نے لہروں کی شدت پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ایک اور زندہ بچ جانے والے شخص کے مطابق روانگی کے تقریباً 30 منٹ بعد پانی ایک جانب سے کشتی میں داخل ہونے لگا تھا۔
ابتدائی طور پر حکام نے 15 افراد کے ہلاک اور 27 کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں جھیل سے مزید لاشیں ملنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 44 ہوگئی۔ لاشیں ملنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
حادثے کے بعد زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ، پولیس، کشتیوں اور زیرِ آب تلاش کرنے والی خصوصی ٹیموں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
ابتدائی کارروائی میں 77 افراد کو بچایا گیا، جنہیں جھیل کے ایک چھوٹے جزیرے تک پہنچایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے بعد میں لاپتا افراد اور لاشوں کی تلاش جاری رکھی۔
کریبا جھیل زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر واقع ہے اور دریائے زیمبیزی پر ڈیم بنائے جانے کے بعد وجود میں آئی تھی۔ یہ پانی کے حجم کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے اور مقامی آبادی کے لیے نقل و حمل کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
واضح رہے کہ اس جھیل میں اس سے قبل بھی کشتیوں کے حادثات پیش آچکے ہیں۔ 2014 میں جھیل کے زیمبیائی حصے میں ایک کشتی حادثے میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر بچے تھے، ہلاک ہوئے تھے۔















