اسٹاک ہوم (ھمگام نیوز) معروف ماحولیاتی و سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایک حیران کن اور سخت گیر اقدام میں بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے تین دیگر رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

کوئٹہ جیل کی دیواروں کے اندر انتہائی خفیہ طور پر چلایا گیا یہ مقدمہ انصاف کا مذاق اور بلوچ عوام کی جائز آوازوں کو خاموش کرنے کی کھلی کوشش ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کون ہیں؟

وہ کوئی مجرم نہیں ہیں۔ وہ ایک ڈاکٹر اور انسانی حقوق کی ایک پُرعزم محافظ ہیں۔ جب ان کے اپنے والد جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنے تو انہوں نے اپنے گہرے دکھ کو ایک طاقتور تحریک میں تبدیل کر دیا۔ وہ ہزاروں متاثرہ اور بے آواز بلوچ خاندانوں کی بہادر آواز بن کر سامنے آئیں۔

ماحولیاتی اور انسانی حقوق کی معروف کارکن گریٹا تھنبرگ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دیے جانے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے “انصاف کا مذاق” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایک انسانی حقوق کی کارکن ہیں جنہوں نے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے متاثرین کی نمائندگی کی، اور ان کے خلاف کارروائی بلوچ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔