اوسلو(ھمگام نیوز) : انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیموں پین ناروے (PEN Norway) اور نرگس فاؤنڈیشن (Narges Foundation) نے بلوچستان کی معروف انسانی حقوق کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے کارکن سبغت اللہ کو عمر قید کی سزا دیے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دونوں تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کو بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے جیل کے اندر ہونے والی عدالتی کارروائی کے بعد عمر قید کی سزا سنائے جانے کی اطلاعات نہایت تشویش ناک ہیں۔
بیان کے مطابق دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمے کی سماعت غیر علانیہ ماحول میں کی گئی، جبکہ عدالتی کارروائیاں جیل کے اندر سے ویڈیو لنک کے ذریعے چلائی گئیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات عدالتی شفافیت، قانونی تقاضوں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بند کمرے میں یا غیر عوامی عدالتی کارروائیاں عدلیہ کی آزادی، جوابدہی اور عوامی سماعت کے حق پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
پین ناروے اور نرگس فاؤنڈیشن نے کہا کہ وہ مارچ 2025 میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد سے ان کے مقدمے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تنظیم کے شراکت دار ادارے پین ناروے نے قبل ازیں ناروے میں پاکستان کے سفیر کے سامنے بھی ان کی حراست اور پاکستان میں بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بیان میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر زیر حراست بی وائی سی کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ کے خلاف سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا جائے۔
تنظیموں نے مزید مطالبہ کیا کہ سول سوسائٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن بند کیا جائے، انسانی حقوق کے کارکنوں کی من مانی گرفتاریوں کا خاتمہ کیا جائے اور پُرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے کا سلسلہ روکا جائے۔
بیان کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو دستاویزی شکل دینے والی عوامی تحریک بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نمایاں رہنما ہیں۔ وہ بلوچستان جیسے عسکریت زدہ خطے میں پُرامن احتجاج اور شہری حقوق کی ایک مؤثر آواز کے طور پر ابھری ہیں۔
سال 2024 میں انہیں دنیا کی بااثر اور متاثر کن خواتین کی فہرست بی بی سی 100 ویمن میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ ٹائم میگزین نے انہیں اپنی “100 نیکسٹ” فہرست میں بھی جگہ دی تھی۔ اکتوبر 2024 میں انہیں ٹائم میگزین کی تقریب میں شرکت کے لیے نیویارک جانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 22 مارچ 2025 کو کوئٹہ میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مبینہ پولیس تشدد اور دیگر کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف ایک پُرامن دھرنے میں شریک تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد سے متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے ان کے مقدمے اور حراستی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات میں وکلاء اور اہل خانہ تک محدود رسائی اور حراست کے دوران صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال شامل ہیں۔ تنظیموں کے مطابق حکام نے بارہا ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات قائم کیے ہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی جانے والی سزا اس بات کی ایک اور افسوس ناک مثال ہے کہ پاکستانی حکام فوجداری نظامِ انصاف کو سول سوسائٹی اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
بیان پر دستخط کنندگان:
– PEN Norway
– Narges Foundation















